اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 497 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 497

497 مددگا ر اور کفیل ہوگا۔‘ ( مکتوب ۰۲-۱-۱۲) آپ اپنے بڑے بھائیوں ، بزرگان ، صحابہ کرام اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے حد درجہ جذبہ احترام رکھتے تھے۔حالانکہ آپ ایسے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے کہ جو حکومت کے نشہ میں مخمور رہتا ہے۔ہمیں کسی واقعہ سے اس طریق سے آپ کے سر مو انحراف کا علم نہیں ہوتا۔مکرم مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت نواب صاحب کے اخلاص کا ایک واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں حضرت نواب صاحب نے شہر میں اس جگہ اپنا مکان بنانے کا ارادہ کیا جہاں بعد میں حکیم مولوی قطب الدین صاحب سید احمد نور صاحب کابلی، بابو محمد وزیر خاں صاحب اور قاری غلام بیبین صاحب نے مکانات بنوا لئے۔جب نواب صاحب کے مکان کے لئے آپ کے کارکنان نے سرحدیں قائم کیں تو ایک کو نہ ایک بزرگ کی زمین میں چلا گیا اور اس بزرگ کی ناراضگی کا موجب ہوا۔حضرت نواب صاحب کے قلب سلیم میں بزرگوں کا اس قدر احترام تھا کہ آپ نے وہاں مکان بنانے کا ارادہ ہی ترک کر دیا کہ اس میں ابتداء میں ہی تنازعہ ہوا ہے یہ جگہ میرے لئے مبارک نہیں ہوسکتی۔اور فرمایا کہ ہماری قادیان میں آمد کی غرض وغایت مکان کی تعمیر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس احتیاط کے نتیجہ میں جو برکات آپ کو عطا کیں معروف ہیں۔اس تعلق میں مکرم مولوی غلام رسول صاحب را جیکی میرے نام ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ۱۹۰۱ء میں جب خاکسار دارالامان حضرت اقدس کی زیارت اور استفاضہ کے لئے گیا تو جب بھی خاکسار بعد نماز حضرت اقدس سید نا اُمسیح الموعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرب میں جگہ ملنے کی حرص پر کچھ متاد بانہ کوشش کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے موقع تلاش کرتا تو بزرگ ہستیاں جو سب کی سب پروانہ وار شمع حسن کے اردگرد حلقہ نشین ہو کر ایسے طور پر حضور اقدس کے حضور بیٹھتیں کہ اول تو کوئی جگہ ہی باقی نہ رہتی۔پھر میرے جیسے دیہاتی گنواروں کے سادہ لباس میں ملبوس انسان کے لئے ویسے بھی جھجک محسوس ہوتی کہ ان سفید پوش اور خوش لباس زیب تن فرمانے والوں کے حلقہ میں گھنے اور گھس کر جگہ بنا کر بیٹھنے کی گنجائش کہاں ہو سکتی اس لئے حلقہ سے باہر کسی قدر دور ہی کھڑے ہو کر حضور اقدس کی زیارت کر لیا کرتا۔جب تین دن اسی طرح قرب سے محرومی پر گزرے تو ہجوم عشاق کی بھیڑ بھاڑ کی حالت میں حضرت اقدس مسجد سے اندرون خانہ تشریف لے جاتے اور اس طرح میرے جیسے غریب مصافحہ کی نعمت سے بھی محروم ہی رہ جاتے۔جب اس طرح تین دن گزرے تو مجھے حضور اقدس کے مصافحہ تک کی محرومی کا بہت ہی بڑا احساس ہوا۔اس پر خاکسار نے ایک عریضہ کے ذریعے حضور اقدس کے ہاں اپنی محرومی کا اظہار کیا کہ تین دن ہوئے کہ حضور اقدس کا یہ خادم دارالامان