اصحاب احمد (جلد 2) — Page 499
499 سنے تھے ان میں سے بعد میں جب بھی کوئی بزرگ مجھ سے ملتے تو مجھے نہایت ہی محبت اور مہربانی سے ملتے اور مصافحہ فرماتے اور بعض دفعہ مجھ سے گفتگو بھی۔مزید تعارف کی غرض سے فرما کر مجھے ممنون فرماتے۔چنانچہ انہی الفاظ کی برکت سے حضرت مولانا نورالدین صاحب اور مولانا عبدالکریم صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کے علاوہ نواب محمد علی خاں صاحب بھی مجھے خوب پہچانتے اور بعض دفعہ عند الملاقات علاوہ مصافحہ کے گفتگو فرمایا کرتے۔اسی طرح مکرم مولانا راجیکی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک واقعہ یہ بھی یاد آیا کہ جب کہ نواب محمد علی صاحب آخری ایام میں بستر علالت پر تھے تو ایک دن بغرض عیادت خاکسار بھی آپ کے در دولت پر حاضر ہوا۔ان ایام میں آپ کے آرام اور استراحت کے خیال سے عیادت کرنے والوں کی کثرت کے باعث وقت معین کیا ہوا تھا۔یعنی تین تین منٹ اور زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ تک عیادت کے لئے وقت مقرر ہوتا اور جب وقت ختم ہونے کو ہوتا تو گھنٹی بجانے سے اطلاع دے دی جاتی جس سے عیادت والے صاحب سمجھ جاتے کہ اب عیادت کے لئے جو وقت تھا ختم ہو چکا اب جا سکتے ہیں اور اگر کوئی صاحب زیادہ توقف فرماتے تو گھنٹی کے مسلسل بجائے جانے سے آداب انتباہ سے وقت کی پابندی کی طرف مزید طور پر متوجہ کیا جاتا۔چنانچہ جب خاکسار نے دروازہ پر پہنچ کر دستک دی تو محترم نواب محمد عبداللہ صاحب نے میرے آنے کے متعلق نواب صاحب کو اطلاع کی کہ مولوی را جیکی عیادت کے لئے آئے ہیں۔اس پر نواب صاحب نے فرمایا کہ انہیں بلالیا جائے اور میرے پاس قریب جگہ پر کرسی پر بٹھایا جائے۔چنانچہ جب میں پاس آکر حاضر ہوا تو نواب صاحب مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور چہرہ سے باظہار بشاشت مسرت کا اظہار فرمایا اور کرسی پر بیٹھنے کے لئے اشارہ فرمایا اس وقت علاج و معالجہ کے غیر مفید ہونے کے ذکر سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خالق الاسباب ہستی ہماری طرح اسباب کی محتاج نہیں اسباب کی احتیاج تو مخلوق کو ہوتی ہے اور خالق الاسباب کی احتیاج مخلوق کی طرح اسباب کو ہوتی ہے نہ کہ خالق الاسباب کو۔پس خالق الاسباب چاہے تو اس کی قوت ارادی معدوم کو بذریعہ تکوین موجود کر سکتی ہے۔نواب صاحب کے اسی طرح کے کلام کی تائید میں میں نے بھی آیت اوليس الذي خلق السموات والارض بقادر على أن يخلق مثلهم بلى وهو الخلق العليم انما امرة اذا أراد شيا ان يقول له كن فيكون۔فسبحان الذي بيده الملكوت كل شئ اليه ترجعون جو سورہ یسین کے آخری الفاظ ہیں پڑھے اور علاوہ اس کے حضرت اقدس سیدنا المصلح الموعودایدہ اللہ کا شعر ذیل بھی پڑھا غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے اے میرے فلسفیو زور دعا دیکھو تو