اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 476 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 476

476 بعد نماز (صبح) فونوگراف درست کئے۔بعد نماز عصر فونوگراف حضرت اقدس کو سنائے اور دوسلنڈر مولوی عبد الکریم صاحب نے بھرے۔“ اور ۲۰ نومبر کی ڈائری میں رقم فرماتے ہیں نماز عصر میں حضرت نے فرمایا کہ شرمیت نے کئی دفعہ ہم کو فونوگراف سننے کے لئے کہا ہے پس ہم چاہتے ہیں کہ اس ذریعہ ان کو ( تبلیغ ) بھی ہو جائے۔ہم کچھ شعرلکھ دیتے ہیں اور عجب نوریست در جان محمد یہ نظم فونوگراف میں بند کی جائے۔چنانچہ حسب الحکم اشعار بند کئے گئے۔حضرت اقدس نے چند منٹوں (میں) ایسے لطیف شعر فرمائے جو نہایت ہی عمدہ اور نیچرل اور پر معنی تھے۔چنانچہ کوئی ساڑھے چار بجے فونوگراف ایک مجمع میں جس میں ہندو مسلمان تھے۔صحن بالا خانہ میں سنایا گیا۔یہ نظم الحکم میں چھپے گی۔“ اس بارہ میں معزز الحکم میں مرقوم ہے۔فونوگراف کے ذریعہ دعوت اسلام 66 ناظرین الحکم غالبا اس خبر سے نا واقف نہیں کہ حضرت حجتہ اللہ علی الارض مسیح موعودا دام اللہ فیوضہم کا منشاء ہے کہ فونوگراف میں اپنی تقریر بند کر کے دوسرے ممالک میں بھیجیں اس تجربہ کے لئے عالی جناب نواب محمد علی خاں صاحب رئیس اعظم مالیر کوٹلہ کی خدمت میں لکھا گیا تھا کہ جب دارالامان آئیں تو اپنا فونوگراف لیتے آئیں چنانچہ وہ لے آئے اور حضرت اقدس کو وہ دکھایا گیا۔قادیان جیسے گاؤں میں فونوگراف تو ایک عجیب تحفہ سمجھنا چاہئے اور حقیقت میں وہ عجیب چیز ہے اس لئے جب گاؤں میں یہ چرچا ہوا تو اکثر لوگوں کو اس کے دیکھنے کا خیال ہوا۔مگر فونوگراف ایک ایسے معزز و مقتدر انسان کے ہاتھ میں تھا کہ ہر کس و ناکس ( کو ) جرات نہ ہو سکتی تھی کہ وہ جا کر براہ راست عرض کرے اگر چہ نواب صاحب کے اخلاق فاضلہ سے بعید تھا کہ کوئی شریف اگر چاہتا تو وہ نہ دکھاتے۔مگر لالہ شرمپت رائے (جن کے نام سے الحکم کے ناظرین اور حضرت اقدس کی کتابیں پڑھنے والے خوب واقف مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں صحن بالا خانہ سے مراد صحن حضرت ام المؤمنین (اطال اللہ بقا ء ہا) ہے۔میں بھی اس مجلس میں موجود تھا۔“