اصحاب احمد (جلد 2) — Page 477
477 ہیں ) نے حضرت اقدس کے حضور التجا کی چنانچہ ۲۰ نومبر ۱۹۰۱ء کو نماز ظہر کے لئے جب حضرت اقدس تشریف لائے تو آپ نے نواب صاحب ممدوح سے لالہ شرمیت رائے کی درخواست کا ذکر فرمایا نواب صاحب نے منظور فرمالیا۔مگر اب قابل قدر اور لائق ذکر یہ بات ہے کہ حضرت اقدس نے سوچا کہ یہ لوگ تو بطور کھیل اور عجوبہ کے اس کو دیکھنا چاہتے ہیں بہتر ہوگا کہ ہم اس سے اپنا کام لیں اور ان کو تبلیغ کریں۔چنانچہ آپ نے یہ تجویز فرمائی کہ اس میں چند شعر جو ہم تیار کر دیتے ہیں بند کئے جائیں اور ایسا ہی پرانی نظموں میں سے اور کچھ قرآن شریف۔فرمایا مولوی عبد الکریم صاحب بند کر دیں۔یا صاحبزادہ سراج الحق صاحب جن کی آواز اچھی ہے آخر مولوی عبد الکریم صاحب نے ان شعروں کو بند کیا۔رقعہ لالہ شرمپت۔نواب صاحب کو کہہ کر فونوگراف منگوا لیا ہے اب تمہاری انتظاری ہے اگر ملا وامل بھی دیکھنا چاہے وہ بھی آجائے بلکہ اگر پانچ سات اور آدمی آنا چاہیں تو مضائقہ نہیں ہے ہر روز فرصت نہیں ملتی اس وقت فرصت نکالی ہے جلد آنا چاہئے۔(مرزا غلام احمد ) چنانچہ لالہ شرمپت رائے اور آریہ سماج کا سیکرٹری اور بہت سے لوگ ہندو اور مسلمان اس کے دیکھنے کو آئے اور لالہ شرمپت رائے کو فونوگراف کے بالکل پاس بٹھایا گیا سب سے پہلے فونوگراف نے منشی نواب خاں صاحب ثاقب مالیر کوٹلوی کے لب ولہجہ سے یہ چند شعر سنائے۔یده اشعار ره از چشم خود آب ، درختان محبت را مگر روزے دہندت ، میوہائے پُر حلاوت را مه اسلام در باطن ، حقیقت ہا ہمے دارد کجا باشد خبرزان مه ، گرفتاران صورت را من از یار آمدم ، تا خلق را این ماه بنمایم گر امروزم نے بینی ، نه بینی روز حسرت را گراز چشم تو پنہاں است شانم دم مزن بارے کہ بد پرہیز بیمارے نہ بیند روئے صحت را