اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 475 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 475

475 کے سننے کا اشتیاق ظاہر کیا تو حضور نے اس کو تبلیغ کا ذریعہ بنالیا۔حضور کی آواز تو نہیں بھری گئی تھی لیکن جو دو بزرگوں کی آواز بھری گئی افسوس کہ وہ بھی محفوظ نہ رہ سکی۔۔سلنڈرجوموم یا مصالحہ کے بنے ہوتے تھے جلد ہی خراب ہو گئے۔جلیل القدر صحابہ میں سے حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا مجھے علم ہے کہ دس بارہ سال قبل ایک فرم کی درخواست پر لاہور کی نمائش میں حضور نے سورہ فاتحہ تلاوت کی تھی جس کو فرم نے ریکارڈ کر لیا تھا۔* خدا کرے آئندہ نسلوں کے لئے اس مسیحی نفس کی آواز محفوظ رہے۔ہمعصری کی وجہ سے ہمیں اس کی اہمیت معلوم نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ حضور کا بابرکت زمانہ دراز کرے جس سے دراصل حضرت اقدس کا عہد مبارک ہی وسیع ہورہا ہے۔بعد میں یقیناً بصد حسرت و یاس حضور ایدہ اللہ بھی حضرت اقدس کی طرح اس شعر کے مصداق ہوں گے۔امروز قوم من نشناسد مقام من روزے بگرید یاد کنند وقت خوشترم فونوگراف کے متعلق نواب صاحب ۱۵ نومبر ۱۹۰۱ء بروز جمعہ کی ڈائری میں تحریر فرماتے ہیں۔مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب انور حال پرائیویٹ سیکرٹری حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ سے ایڈریس معلوم کر کے ممبئی کی اس کمپنی کو خاکسار نے خط لکھا لیکن واپس آ گیا۔جلسہ سالانہ ۵۱ء پر ربوہ میں مکرم سید عبد الرحمن صاحب متوطن امریکہ (خلف سید عزیز الرحمن صاحب منصوری رضی اللہ عنہ ) نے حضور کی تقاریر ریکارڈ کی ہیں۔بقیہ حاشیہ: میں ذکر کیا جائے۔(اشتہار، افروری ۱۹۰۰ ء ) اور دوسری جگہ کتاب ہذا میں مرزا صاحب کا خط درج کیا گیا ہے۔وہ نواب صاحب کو فہرست مذکورہ ارسال کرنے کے لئے تحریر کرتے ہیں تا اس کا اندراج ہو سکے۔اس سے ظاہر ہے کہ ہجرت سے قبل مالیر کوٹلہ کے چندہ کی فراہمی میں نواب صاحب کی سعی و توجہ کا بہت کچھ دخل تھا۔احباب مذکورہ کے علاوہ مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب دو اور احمدیوں کا ذکر فرماتے ہیں۔۱- خیر الدین خاں صاحب۔یہ احمدی تھے اور حضرت والد صاحب کے ملازم بھی۔اور مولوی نواب خاں صاحب ثاقب میرزا خانی کے رشتہ دار تھے۔فوت ہو چکے ہیں۔ان کے بیٹے عبداللہ خاں صاحب احمدی ہیں۔“ ۲۔عمرہ معمار یہ احمدی تھے اور حضرت والد صاحب کے ملازم بھی۔مالیر کوٹلہ کے باشندہ تھے۔لا ولد فوت ہوئے۔ان کا اصل نام عمر الدین تھا۔“