اصحاب احمد (جلد 2) — Page 452
452 دیا اور رقم کی اشد ضرورت ہے اس لئے مکلف ہوں کہ براہ مہربانی دوسور و پید ارسال فرماویں تادیا جائے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس قدر خرچ کے بعد بھی کسی قدر حصہ نیچے کے مکان کی عمارت سے نا تمام رہ جائے گا۔مگر امر مجبوری ہے پھر جس وقت صورت گنجائش ہوگی کام شروع کر دیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کے ہرا مراختیار میں ہے۔مجھے ابھی تک ایک بھی موقعہ کا علم نہیں ہو سکا کہ حضرت اقدس کی طرف سے نواب صاحب کو مالی اعانت یا قرض کی تحریک ہوئی ہو اور آپ اس کی تعمیل نہ کر سکے ہوں۔اس لئے جو واقعات ہمارے سامنے ہیں ان سے ہمارے لئے یہ باور کرنے کے لئے قرائن قو یہ موجود ہیں کہ نواب صاحب نے دوصد روپیہ کی رقم بھی ارسال کی ہوگی۔نہ تمام مکتوبات محفوظ ہیں اور نہ جو موجود ہیں سارے مجھے دستیاب ہوئے ہیں۔۴ - ۹۸ء میں مدرسہ کی اعانت حضرت نواب صاحب کو بزرگان کرام بھی تحریکات کرتے رہتے تھے۔چنانچہ ایک موقعہ کا علم ہمیں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے ذیل کے مکتوب سے ہوتا ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مکرم معظم جناب خاں صاحب۔وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔خواجہ صاحب کو جناب کا خط بھیج دیا گیا ہے۔آپ نے اب تک تعجب ہے اپنی سوانح سے سبکدوشی حاصل نہیں کی۔یاوہی چین کے بادشاہ والا قصہ ہے۔کوئی مطبع والا صاحب ادھر سے گیا۔وزیر صاحب سے ملاقات ہوئی اس نے ہنر اور تجربہ پوچھا۔جواب دیا کتا بیں چھاپا کرتا ہوں۔وزیر نے کہا میں تجھے بادشاہ کے ہاں لے جاتا ہوں وہاں یہ کہنا کہ میں کاغذ بنایا کرتا ہوں اس لئے کہ یہاں کوئی چھاپنے کے فن سے واقف نہیں بادشاہ کے حضور میں حاضر ہوا۔وزیر نے بڑی تعریف کی کہ آپ ایسا عمدہ کاغذ بنا سکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کوئی ویسا بنا نہیں سکتا۔بادشاہ نے خوش ہو کر کہا کل ہمارے ہاں کوئی نمونہ اپنی کاری گری کا لانا۔دوسرے دن بیچارہ سخت تردد میں پڑ گیا کہ اب بادشاہ کے سامنے کیوں کر جاؤں وزیر نے ہنس کر کہا گھبراؤ مت کل کی بات کل تک ہی تھی۔اس سے آگے کس کو یا د۔ایسا نہ ہو کہ آپ بھی فغفور چین کی خلافت راشدہ پر متمکن ہو جائیں۔مسک العارف رسالہ مصنفہ مولوی سید محمد احسن صاحب جو آپ کے حکم سے شائع ہونا تھا چھپ گیا۔مدرسہ کی منتظم کمیٹی نے نصف اس کا روپیہ دے کر بلحاظ اصلی لاگت کے خرید لیا اس لئے کہ مولوی صاحب نے ایک جماعت کے وعدہ کی بناء پر ۱۴ سو چھپوایا تھا جس میں سے نصف یعنی سات سو کے خرچ کے ذمہ دار