اصحاب احمد (جلد 2) — Page 451
451 مزدوری تین سو پچاس سے الگ ہے۔اس لئے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ پہلی منزل کے تیار ہونے کے بعد بالفعل عمارت کو بند کر دیا جائے۔کیونکہ کوئی صورت اس کی تکمیل کی نظر نہیں آتی۔یہ اخراجات گویا ہر روز پیش آتے ہیں۔ان کے لئے اول سر مایہ ہو تو پھر چل سکتے ہیں۔شاید اللہ جل شانہ اس کا کوئی بندو بست کر دیوے بالفعل اگر ممکن ہو سکے تو آں محبت بجائے پانچ سوروپے کے سات سو روپیہ کی امدادفرماویں دوسوروپے کی جو کمی ہے وہ کنوئیں کے چندہ میں سے پوری کر دی جاوے گی اور بالفعل کنواں بنانا موقوف رکھا جاوے گا۔پس اگر سات سو روپیہ آپ کی طرف سے ہو اور دوسو روپیہ کنوئیں کے اس طرح پر نوسور و پیر تک پہلی منزل انشاء اللہ پوری ہو جائے گی۔اور کیا تعجب ہے کچھ دنوں کے بعد کوئی اور صاحب پیدا ہو جائیں تو وہ دوسری منزل اپنے خرچ سے بنوادیں۔نیچے کی منزل مردانہ رہائش کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ زنانہ مکان سے ملی ہوئی ہے۔مگر اوپر کی منزل اگر ہو جائے تو عمدہ ہے۔مکان مردانہ بن جائے گا جس کی لاگت بھی اسی قدر یعنی نو سو یا ہزار روپیہ ہوگا میں شرمندہ ہوں کہ آپ کو اس وقت میں نے تکلیف دی اور ذاتی طور پر مجھ کو کسی مکان کی حاجت نہیں۔خیال کیا گیا تھا کہ نیچے کی منزل میں ایسی عورتوں کے لئے مکان تیار ہو گا کہ جو مہمان کے طور پر آئیں اور اوپر کی منزل مردانہ مکان ہو۔سو اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس خیال کو پورا کر دے گا۔والسلام خاکسار غلام احمد ۴ رمئی ۱۸۹۷ء ۳۲۳ مکرم عرفانی صاحب اس مکتوب پر تحریر فرماتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے جیسا کہ اس خط میں آپ نے ظاہر فرمایا تھا آخر وہ تمام مکانات بنوا دئے اور وَسِعُ مَكَانَگ کی پیشگوئی ہمیشہ پوری ہی ہوتی رہتی ہے اور اس کی شان ہمیشہ جدا ہوتی ہے۔مبارک ہیں وہ جن کو اس کی تکمیل میں حصہ ملتا ہے۔ابتدائی ایام میں حضرت نواب صاحب کو سابق ہونے کا اجر ملا۔جزاهم الله احسن الجزاء اسی سلسلہ میں حضور نے مزید دوصد روپیہ طلب فرمایا تھا اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پانصد روپیہ جو گزشتہ مکتوب کے ذریعہ طلب کیا گیا تھا آپکا تھا صرف دوصد روپیہ زائد طلب کردہ کا انتظار تھا۔حضور نے ۲۷ / جون ۹۷ء کو رقم فرماتے ہیں۔نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحيم مجی اخویم نواب صاحب سلمہ۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔پہلے آں محب کی خدمت میں دوسو روپے کے لئے بغرض بیباتی حساب دہی معماران و مزدوران اور اینٹ وغیرہ کی نسبت لکھا گیا تھا۔ایک وہ روپیہ نہیں