اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 393 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 393

393 آپ کی نظر ہم پر پڑ گئی تو فرمایا میرا گھر آج خوشی سے بھر گیا ہے۔اس قدر دانی پر حوصلہ افزائی کا یہ اثر ہوا کہ ہم درس میں با قاعدہ ہو گئے۔بلکہ بعد میں دیواری گیس لیمپ میں گھر سے لے جا کر روزانہ درس کے لئے جلایا کرتا تھا سفر میں بھی ٹیوٹران کو ہمراہ لے جاتے تھے۔چنانچہ یہ اساتذہ کراچی، مالیر کوٹلہ ،شملہ اور لاہور ہمارے ساتھ جاتے رہے۔حضور علیہ السلام کی وفات والے سفر میں بھی اساتذہ اور حکیم محمد زمان صاحب ہمارے ہمراہ لاہور گئے تھے ہے مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم اے نے بار ہا راقم کو سنایا کہ حضرت نواب صاحب بچوں کی تربیت میں حد درجہ محتاط تھے۔عرصہ تک قادیان میں بچے مدرسہ میں اس لئے نہ داخل کئے کہ کہیں نظروں سے اوجھل ہو کر تربیت میں نقص نہ واقع ہو جائے۔جب آپ سے کہا گیا کہ بچوں کو مدرسہ میں داخل کرنا ہی مناسب ہے تو حضرت نواب صاحب نے فرمایا کہ بچوں کی سوسائٹی کے لئے ایسے طالب علم کا انتخاب کیا جائے جوان کی سوسائٹی کے لائق ہو اور ان کا بہتر ہم نشین ثابت ہوتا کہ بدصحبت سے نقصان نہ اٹھا ئیں۔چنانچہ حضرت نواب صاحب نے بالآخر میرا انتخاب کیا اور مجھ سے ہمیشہ ہی عمر بھر خوش رہے۔طالب علمی سے آخر عمر تک اپنے بچوں کی طرح عزیز رکھتے تھے۔حضرت پیر منظور محمد صاحب نے ان صاحبزادگان کو قرآن مجید ختم کرایا اور اس موقعہ پر حضرت اقدس کی دعا سے بھی مستفیض ہوئے چنانچہ معزز البدر میں مرقوم ہے۔شام کے وقت بعد ادا ئیگی نماز مغرب حضرت اقدس نے جلسہ فرمایا تھوڑی دیر کے بعد جناب نواب محمد علی خاں صاحب کے صاحبزادہ زریں لباس سے ملتبس حضور کی خدمت میں نیاز مندانہ طریق پر حاضر ہوئے۔آپ نے ان کو اپنے پاس جگہ دی ان کو اس ہئیت میں دیکھ کر خدا کے برگزیدہ نے بڑی سادگی سے جناب نواب صاحب سے دریافت کیا کہ ان کی کیا رسم ادا ہونی ہے۔نواب صاحب نے جواب دیا کہ آمین ہے۔اس اثناء میں ایک سروپا کا تھال آیا اور وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے رو برو دھرا گیا۔چند لمحہ کے بعد پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اب آگے کیا ہوتا ہے۔عرض کی گئی کہ اسے دست مبارک لگا دیا جائے اور دعا الفضل بابت ۱۳-۸-۶ میں "زیر مدینہ مسیح مرقوم ہے۔”محمد عبداللہ خاں ومحمد عبدالرحیم خاں اپنے والد بزرگ وار نواب محمد علی خاں صاحب کے پاس لدھیانہ گئے ہیں تو ان کی تعلیم و تربیت کے لئے ماسٹر محمد دین بی۔اے ساتھ ہیں۔الحکم وغیرہ سے بوقت وفات حضرت اقدس حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب کے حضرت نواب صاحب کے ہمراہ لاہور میں ہونے کا علم ہوتا ہے۔حضرت بھائی جی بھی تصدیق کرتے ہیں۔