اصحاب احمد (جلد 2) — Page 394
394 66 فرمائی جائے۔چنانچہ حضور نے ایسا ہی کیا اور پھر فوراً تشریف لے گئے۔" انکسار مکرم مفتی محمد صادق صاحب مجھے لکھتے ہیں کہ حضرت نواب صاحب کی طبیعت میں بہت انکسار تھا۔مسجد میں نماز کے لئے تشریف لاتے تو عموماً سب سے آخری صف میں جوتیوں کے قریب بیٹھ جاتے اور کبھی یہ کوشش نہ کرتے کہ نمازیوں کے کندھوں سے پھاند کر آگے بڑھیں ہاں اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی بات کے لئے بلاتے کہ نواب صاحب ہیں تو آگے آجائیں تب آگے جاتے اور یہی طریق حضرت خلیفہ اسیح اول کہا تھا کہ وہ بھی مسجد میں آکر سب سے پیچھے بیٹھ جاتے تھے اور بغیر اس کے کہ حضرت مسیح موعود ان کو آگے بلائیں پیچھے ہی بیٹھے رہتے۔نواب صاحب کے اس طریق کے متعلق مکرم حافظ غلام رسول صاحب النگوی حضرت اقدس کے عہد مبارک کا ایک واقعہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نماز عصر ہو رہی تھی اور مسجد مبارک میں صفیں پر ہو چکی تھیں کیونکہ ان دنوں مسجد مبارک بہت چھوٹی تھی۔سب سے پچھلی صف میں خاکسار اور ایک شخص حاکم نامی احمدی (ہمارے گاؤں کا زمیندار ) کھڑے تھے کہ اتنے میں نواب محمد علی خاں صاحب مع دو کس معززین کے تشریف لائے۔حاکم نے کہا کہ نواب صاحب آئے ہیں میں اپنی جگہ ان کو دے دیتا ہوں اس نے پیچھے ہٹنا چاہا۔نواب صاحب نے فرمایا نہیں۔میں نہیں کھڑا ہوں گا یہ جگہ آپ کی ہے آپ اسی جگہ کھڑے رہیں۔میں یہیں نماز پڑھ لوں گا پھر آپ نے اپنا کپڑا جوتیوں کے اوپر ہی بچھا لیا اور ان دونوں معززین کے ساتھ وہیں نماز ادا کی اسلام نے جو مساوات سکھائی ہے اس کا عملی نمونہ حضور علیہ السلام کی صحبت میں ہی ملتا ہے۔“ نواب صاحب کے دل میں حد درجہ فروتنی کے باعث غرباء سے دیگر امراء کی طرح جذ بہ حقارت نہ ہونا تو الگ رہا آپ کا دل ان کے لئے جذبات محبت و شفقت سے پر رہتا تھا آپ انہیں اپنے جیسا انسان خیال کرتے تھے اور ان سے حسن سلوک سے پیش آتے تھے کہ جس سے اسلامی مساوات آشکارا ہو۔اسی طرح خلافت اولی کا واقعہ ہے۔مکرم مرز اعبد الغنی صاحب سابق محاسب صدر انجمن احمد یہ قادیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ جمعہ کے لئے تشریف لائے۔جوتیوں میں جگہ ملی۔آپ وہیں بیٹھ گئے باو جو یکہ لوگ اس کا ذکر مکرم مفتی صاحب کی طرف سے الفضل جلد ۳۳ نمبر ۳۸ صفحه کالم ۴ پر چہ ۴۵ -۲-۱۳ میں بھی ہے۔