اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 132 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 132

132 ان سے دریافت کئے بغیر کسی اور کو ان کی غیبوبت میں دینا پسند نہیں فرماتے تھے اور ان سے دریافت کر کے بھی صرف عرصہ غیو بت کے لئے دینے کا منشاء تھا چنانچہ حضرت مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں: قادیان ۵ / مارچ خاں صاحب مکرم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔حضرت اقدس علیہ السلام ایک ہفتہ سے درد شکم کے سبب سے بیمار ہیں کل ظہر کے وقت کئی دن کے بعد تشریف لائے۔مجھے فرمایا کہ میں ان کی طرف سے آپ کو لکھوں۔محمد علی شاہ صاحب نے حضرت سے درخواست کی ہے کہ انہیں حضرت اپنے دار میں جگہ دیں اس لئے کہ ان کے گھر کے پاس چند واقعات طاعون کے ہو گئے ہیں۔حضرت نے فرمایا۔اگر نواب صاحب کو ایک ماہ اور لاہور میں ٹھہر نا ہو تو ان کا مکان شاہ صاحب کے لئے فارغ کیا جاسکتا ہے۔پرسوں آپ کے مولوی خدا بخش صاحب کے خط سے معلوم ہوا کہ نواب صاحب دوماہ تک نہیں آ سکتے۔حضرت نے اس خط پر اعتماد نہیں کیا اور فرمایا جب تک نواب صاحب خود نہ لکھیں جب تک وہ مکان محمد علی شاہ صاحب کو نہیں دے سکتے آپ از راہ کرم واپسی اطلاع دیں کہ آپ کا کیا منشا ہے۔کل سند ر سے معلوم ہوا کہ وہ بہت سے روپے کی منظوری آپ سے عمارت پر لگانے کے لئے لے آیا ہے وہ کہنے لگا ہزار تم لوگ نصیحت کرو آخر وہ بادشاہوں کے بیٹے نیه قادیان آئے اور ان کی آمد کی تاریخ ۱۴ نومبر ۱۹۰ ء ڈائری میں مرقوم ہے اور ان کے بہن بھائی اور ان کی دوسری والدہ یعنی خالہ امتہ الحمید بیگم صاحبہ دسمبر ۱۹۰۱ء میں قادیان آئے اور پہلی بار آئے۔میاں صاحب موصوف اپنی اور ان کی پہلی آمد کے نومبر دسمبر ۱۹۰۱ء میں ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔اس لئے حضرت مولوی صاحب سنوری کے نام کا مکتوب کسی طور سے ۱۹۸ء کا نہیں قرار پاتا۔۔نواب صاحب ۱۴/ نومبر ۱۹۰۱ء کو قادیان مع اہل و عیال تشریف لائے صرف چند دن کے لئے سفر پر گئے پھر ۲۳ اگست ۱۹۰۴ء کو کئی ماہ کے لئے لاہور گئے تھے۔