اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 131 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 131

131 صاحب نے رہائش کے لئے پختہ گو مخصر ترین عمارت کی تعمیر کا ارادہ کر لیا۔ہر امر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ذیل کے مکتوب سے ظاہر ہے کہ نواب صاحب کو دیئے ہوئے دار ا مسیح کے حصہ کو حضرت اقدس میں چل رہی ہے۔ہر ایک ہفتہ میں شاید بیس ہزار کے قریب آدمی مرجاتا ے“۔( مکتوب نمبر ۸۰) اور ۰۲-۵-۲۰ کو تحریر فرماتے ہیں اس طرف طاعون کا اس قدر زور ہے کہ نمونہ قیامت ہے۔گرمی کے ایام میں بھی زور چلا جاتا ہے۔( مکتوب نمبر (۹۱) اور ۰۲-۱۰-۲۶ کو تحریر فرماتے ہیں۔سنا گیا ہے کہ امرتسر میں طاعون دن بدن چمکتی جاتی ہے۔معلوم نہیں کہ طاعون سے خدمتِ مفوضہ لینا کس مدت تک حضرت احدیت کا ارادہ ہے“۔( مکتوب نمبر ۱۸۹۔سو ظاہر ہے کہ پنجاب میں ۹۸ء میں طاعون کا زور ہوا پھر شدت کم ہو گئی تھی اور پھر دوبارہ چمک اٹھی تھی اس لئے اب دیگر وجوہات جس عرصہ سے اسے متعلق کر دیں گے درست ہوگا سو میرے نزدیک جو وجوہات ہیں درج ذیل ہیں۔ا۔یہاں حضرت مولوی عبد اللہ صاحب کے نام کے مکتوب کی تاریخ کی تعیین کا ذکر ہے۔آپ کو بھی حضور ۰۲-۹-۱۸ کو تحریر فرماتے ہیں۔ٹیکہ اگر چہ بیہودہ سا علاج ہے اور کہتے ہیں کہ خطرہ سے خالی نہیں اور بعض اس سے مجذوم اور دیوانہ بھی ہو گئے ہیں بعض طاعون کو خود بلا کر جانِ عزیز کھوتے ہیں۔مگر آپ ملازم ہیں آپ کو شاید تو كلاعلی اللہ لگانا ہی پڑیگا۔( مکتوب نمبر ۷۳ ) گویا کہ حضرت مولوی صاحب والے علاقہ میں بھی اس وقت طاعون تھی * اس طرح ۰۲-۱-۲۰ کو حضرت اقدس حضرت سید فضل شاہ صاحب کو تحریر فرماتے ہیں۔اگر جموں میں طاعون کی ترقی کا خطرہ نہیں تو خیر ور نہ ضرور عیال کو اس جگہ سے نکالنا چاہیئے۔( مکتوب نمبر ۳ /۱۶۱)۔اس مکتوب میں نواب صاحب کے اہل وعیال کے دار امسیح میں مقیم ہونے کا ذکر ہے۔نومبر ۹۸ء میں آپ کی پہلی اہلیہ فوت ہوئیں اور وہ کبھی قادیان نہیں آئیں اور نواب صاحب کے اہل وعیال میں سب سے پہلے میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب اور اغلب یہ ہے کہ اسوقت کے قریب یہ خط لکھا گیا ہوگا۔اس سال طاعون کی شدت کے باعث حضرت اقدس نے ضروری خیال فرمایا کہ جلسہ سالانہ بھی منعقد نہ ہو۔