اصحاب احمد (جلد 2) — Page 133
133 ہیں وہ کہاں مانتے ہیں۔والسلام۔خاکسار عبدالکریم جدید آپ بعض ذاتی امور کی سر انجام دہی کے لئے ۲۳ اگست ۰۴ کو قادیان سے باہر تشریف لے گئے اور آپ کو کئی ماہ تک واپس آنے کا موقعہ نہ ملا۔یقینا یہ غیب بت بامر مجبوری ہوگی۔آپ کی قلبی کیفیت ہم ہجرت کے ذکر میں سابقہ اوراق میں دیکھ چکے ہیں۔اس سفر کے قریب بھی آپ نے اپنے ایک بھائی کو اس خط کے جواب میں تحریر کیا کہ آپ کیوں قادیان سے باہر نہیں جانا چاہتے۔اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حد درجہ مجبوری کے بغیر یہ غیو بیت نہ ہوئی ہوگی۔آپ تحریر فرماتے ہیں: دار الامان قادیان بسم الله الرحمن الرحيم برا در عزیز مسلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم۔آپ کا ایک خط پہلے اور ایک کل مجھ کو ملا۔ان دنوں میں بیمار ہوں۔آپ جانتے ہیں کہ ہر ایک قسم کے نفع نقصان کو جو آپ جانتے ہیں میں بھی جانتا ہوں۔اگر آپ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں جانتا اور خوب سمجھتا ہوں۔مجنوں نہیں خداوند تعالیٰ کے فضل سے اب تک جیسا کچھ ہے دماغ صحیح ہے مگر باوجود اس کے میں سب نقصانوں کو برداشت کرتا رہا ہوں اور کرتا ہوں۔اب اس وقت کوٹلہ میں نہ رہنے سے میرے مالی اور جائداد وغیرہ کے دنیاوی نقصان بہت سے ہورہے ہیں۔مگر جب میں نے قادیان میں رہنے کا ارادہ کیا تو ساتھ ہی ان سب نقصانات کے برداشت کرنے کا ارادہ کر لیا۔انسان کے جسم میں ایک دل ہے دو نہیں۔پس وہ ایک طرف ہی لگ سکتا ہے یا دنیا کی طرف یا دین کی طرف۔میری رہائش قادیان میں بڑھتی جاتی ہے۔اسی قدر دنیا سے سردمہری ہوتی جاتی ہے اور امراض کا سلسلہ ہر وقت موت کی یاد قائم رکھتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایک ماہ سے تو بالکل کوئی خواہش دنیا قلب میں نہیں رہی۔اب میں دل میں سوچتا ہوں تو صرف عاقبت کی فکر قلب میں نظر آتی ہے اور اس کے سوا کوئی خواہش نہیں رہی اس کا قدرتی نتیجہ یہ ضروری ہے کہ ہر قسم کی دنیاوی عزت اور امور سے نفرت قطعی ہوگئی ہے۔اور اب جتنا کچھ جا گیر وغیرہ کا تعلق ہے۔یہ بھی وبال نظر آتا ہے بلکہ ہر وقت یہ فکر لگی رہتی ہے کہ کوئی ایسی سبیل نکلے کہ میں ان علائق سے بھی سکبد وش ہو جاؤں تو آپ خیال کر سکتے ہیں کہ جب کہ موجودہ حالت ہی وبال معلوم ہوتی ہے تو اس سے زیادہ دنیا میں ترقی میرے لئے کیسی وبال جان ہو سکتی ہے۔اب ہم کیا چاہتے ہیں بس یہی کہ ہماری حالت دنیا کے یہ مکتوب ۵/ مارچ ۱۹۰۵ء کا ہے کیونکہ حضرت نواب صاحب بعد ہجرت ۰۴-۸-۲۳ سے ۰۵-۴-۲۷ تک قادیان سے باہر رہے تھے۔اس سفر کا ذکر احکام پر چہ ہما را گست ۱۹۰۴ صفحہ ۶ کالم میں آتا ہے۔