اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 55 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 55

55 جلس ۱۸۹۲ء کن حالات میں ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے پر علماء کہلانے والوں نے جوشور وشتر بر پا کیا اور عوام کو حضور کے خلاف برانگیختہ کرنے کے لئے کذب بیانی اور دروغگو ئی جیسے گندے ہتھیار استعمال کرنے شروع کئے۔یہ امر کسی پر مخفی نہیں حتی کہ آپ یہ سن کر حیران ہو نگے اور تو اور ایک معین تاریخ پر جلسہ کے انقعاد کو بھی بدعت قرار دیا گیا۔چنانچہ حضوڑ نے ۷ اردسمبر ۱۸۹۲ء کو اس فتوی کی تردید میں ایک اشتہار بعنوان ” قیامت کی نشانی شائع کیا۔اس زمانہ کے حالات کو سامنے لانے کے لئے اس اشتہار کا ایک بہت ہی مختصر اقتباس درج ذیل کیا جاتا ہے۔حضور فرماتے ہیں : چونکه سال گذشتہ میں بمشورہ اکثر احباب یہ بات قرار پائی تھی کہ ہماری جماعت کے لوگ کم سے کم ایک مرتبہ سال میں یہ نیت استفادہ ضروریات دین و مشوره اعلاء کلمه اسلام و شرع متین اس عاجز سے ملاقات کریں اور اس مشورہ کے وقت یہ بھی قرین مصلحت سمجھ کر مقرر کیا گیا تھا کہ ۲۷ / دسمبر کو اس غرض سے قادیان میں آنا انسب اور اولی ہے کیونکہ یہ تعطیل کے دن ہیں اور ملازمت پیشہ لوگ ان دنوں میں فرصت اور فراغت رکھتے ہیں اور باعث ایام سرمایہ دن سفر کے مناسب حال بھی ہیں۔چنانچہ احباب اور مخلصین نے اس مشورہ پر اتفاق کر کے خوشی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ یہ بہتر ہے اب ۷ دسمبر ۱۸۹۲ء کو اسی بناء پر اس عاجز نے ایک خط بطور اشتہار کے تمام مخلصوں کی خدمت میں بھیجا جو ریاض ہند پر لیس قادیان میں چھپا تھا جس کے مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض یہ بھی ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو با لمواجہ دینی فائدہ اُٹھانے کا موقعہ ملے۔اور ان کے معلومات دینی وسیع ہوں اور معرفت ترقی پذیر ہو۔اب سنا گیا ہے کہ اس کا رروائی کو بدعت بلکہ معصیت ثابت کرنے کے لئے ایک بزرگ نے ہمت کر کے ایک مولوی صاحب کی خدمت میں جو رحیم بخش نام رکھتے ہیں اور لاہور میں چینیاں والی مسجد کے امام ہیں ایک استفتاء پیش کیا جس کا یہ مطلب تھا کہ ایسے جلسہ پر روز معین پر دور سے سفر کر کے جانے میں کیا حکم ہے اور ایسے جلسہ کے لئے اگر کوئی مکان بطور خانقاہ کے تعمیر کیا جائے تو ایسے مدد دینے والے کی نسبت کیا حکم ہے۔استفتاء میں یہ آخری خبر اس لئے بڑھائی گئی جو مستفتی صاحب نے کسی سے سُنا ہوگا تمی فی اللہ اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب نے اس مجمع مسلمانوں کے لئے اپنے صرف سے جو غالباً سات سو روپیہ یا کچھ اس سے زیادہ ہو گا۔قادیان میں ایک مکان بنوایا جس کی امداد خرچ میں اخویم حکیم فضل دین صاحب بھیروی نے بھی تین چار سو روپیہ دیا ہے۔اس استفتاء کے جواب میں میاں رحیم بخش صاحب نے ایک طول طویل عبارت ایک غیر متعلق حدیث شد و حال کے حوالہ سے لکھی ہے جس کے مختصر الفاظ