اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 54 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 54

54 ہیں۔دوسرے وہ گروہ جو بدظنی کی شامت سے مجھ سے دُور پڑتے جاتے ہیں۔پہلا جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء 66 ۵۳ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے ۱۸۹۱ء میں جلسہ سالانہ کی بنیاد رکھی جا چکی تھی جس میں پچھتر احباب نے شمولیت کی تھی۔حضور نے ۳۰ دسمبر ۱۸۹۱ء کو ایک اعلان شائع فرمایا جو کتاب آسمانی فیصلہ میں موجود ہے اس میں ان جلسوں کی غرض و غایت حضور نے یہ بیان فرمائی ہے: اور چونکہ ہر یک کے لئے بباعث ضعف فطرت یا کئی مقدرت یا بعد مسافت یہ میسر نہیں آسکتا کہ وہ مصلحت معلوم صحبت میں آکر رہے یا چند دفعہ سال میں تکلیف اُٹھا کر ملاقات کے لئے آئے۔لہذا قرینِ مع ہوتا ہے کہ سال میں تین روز ایسے جلسہ کے لئے مقرر کئے جائیں جس میں تمام مخلصین اگر خدا تعالیٰ چاہے۔بشرط صحت و فرصت و عدم موانع تو یہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہوسکیں۔سو میرے خیال میں بہتر ہے کہ وہ تاریخ ۲۷ دسمبر سے ۲۹؍ دسمبر تک قرار پائے۔یعنی آج کے دن کے بعد جو۳۰ دسمبر ۱۸۹۱ ء ہے آئندہ اگر ہماری زندگی میں ۲۷ / دسمبر کی تاریخ آجاوے تو حتی الوسع تمام دوستوں کو محض اللہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دعا میں شریک ہونے کے لئے اس تاریخ پر آجانا چاہیئے۔اور اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں۔اور نیز ان دوستوں کے لئے خاص دُعا ئیں اور خاص توجہ ہوگی۔اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے۔اور پاک تبدیلی ان میں بخشے۔اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر ایک نئے سال جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہونگے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشتہ تو ڈ دو تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا اور جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کر جائیگا۔اس جلسہ میں اس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے گی۔اور تمام بھائیوں کو روحانی طور پر ایک کرنے کے لئے اور ان کی خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اُٹھا دینے کے لئے بدرگاہ حضرت عزت جل شانہ کوشش کی جائے گی اور اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جو انشاء اللہ القدیر وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے اور کم مقدرت احباب کے لئے مناسب ہوگا کہ پہلے ہی سے اس جلسہ میں حاضر ہونے کا فکر رکھیں۔اور اگر تدبیر اور قناعت شعاری سے کچھ تھوڑا تھوڑا سر مایہ خرچ سفر کے لئے ہر روز یاماہ بماہ جمع کرتے جائیں اور الگ رکھتے جائیں تو بلا دقت سرمایہ سفر میتر آوے گا۔گویا یہ سفر مفت میسر ہو جائیگا۔۵۴