اصحاب احمد (جلد 2) — Page 56
56 یہ ہیں۔کہ ایسے جلسہ پر جانا بدعت بلکہ معصیت ہے اور ایسے جلسوں کا تجویز کرنا محدثات میں سے ہے جس کے لئے کتاب اور سُنت میں کوئی شہادت نہیں۔اور جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے۔“ حضور اس اشتہار میں شرح وبسط کے ساتھ اس فتویٰ کی تردید میں لکھتے ہیں کہ احادیث طـلــب الـعـلـم فريضة على كل مسلم ومسلمة اور اطلبوا العلم ولو كان بالصین کی رُو سے حصول علم دین کے لئے بھی سفر فرض قرار دیا گیا ہے اور حضرت امام بخاری کے سفر طلب علم حدیث کے لئے مشہور ہیں۔زیارتِ صالحین کے لئے بھی سفر کیا جاتا ہے جیسے حضرت عمر نے حضرت اویس قرنی کی ملاقات کے لئے سفر کیا اور اپنے مرشدوں سے ملنے کے لئے اولیائے کبار مثلاً حضرت شیخ عبد القادر جیلانی "۔حضرت بایزید بسطامی۔حضرت معین الدین چشتی اور حضرت مجدد الف ثانی نے سفر کئے۔اس طرح اقارب کی ملاقات تلاش معاش شادی پیغام رسانی، جہاد، مباحثہ ، مباہلہ ، (قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ کے مطابق ) عجائبات دنیا کے دیکھنے ، عیادت، علاج کرانے ، مقدمہ اور تجارت کے لئے بھی سفر کئے جاتے ہیں وغیرہ۔حضور کی مشرح اور مدل تردید ہی اس امر پر شاہد ناطق ہے اس زمانہ میں کس قسم کی مخالفت ہو رہی تھی اور وہ احباب جو باوجود ان حالات کے جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شرکت کے لئے قادیان آئے یقیناً مخالفت کے اس طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے جلسہ کے لئے آئے بعد ازاں بھی جو ایمان اور اخلاص پر قائم رہے ان کا مقام بہت ہی بلند ہے۔اس جلسہ میں شریک ہونے والوں کی تعداد پانصد تھی۔ان میں سے سوا تین صد مخلصین کے اسماء درج کتاب کئے گئے ہیں۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کا پورا کرنے والا قرار دیا ہے جیسا کہ آگے ذکر آئیگا۔حضرت مسیح موعود کی تحریک سے نواب صاحب کی جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شمولیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مکتوب میں جس کا قبل ازیں ذکر ہو چکا ہے نواب صاحب کو بار بار تحریک فرمائی کہ کچھ عرصہ حضوڑ کی صحبت میں آکر رہیں۔چنانچہ حضور اس مکتوب کو ذیل کی سطور سے ختم کرتے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ میرے اس خط کا آپ کے دل پر کیا اثر پڑیگا مگر میں نے ایک واقعی نقشہ آپ کے سامنے کھینچ کر دکھلا دیا ہے۔ملاقات نہایت ضروری ہے۔میں چاہتا ہوں کہ جس طرح ہو سکے ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۲ء کے جلسہ میں ضرور تشریف لاویں۔انشاء اللہ القدیر آپ کے لئے بہت مفید ہو گا۔اور جو للہ سفر کیا جاتا ہے وہ عند اللہ ایک قسم کی عبادت کے ہوتا ہے