اصحاب احمد (جلد 2) — Page 678
678 کرتی ہیں ہزاروں پرندے اس کے اوپر بسیرا کرتے اور ہزاروں لوگ اس کے تلے ستاتے ہیں۔سو روحانی دنیا میں جو لوگ تقویٰ اور اخلاص کے منار تک پہنچنے والے ہوتے ہیں۔انکو خود بھی دعاؤں پر اعلی یقین عطا ہوتا ہے ان کی اعلیٰ درجہ کی قربانیاں اور اعمال صالحہ انبیاء کے خاص دعاؤں کے لئے جاذب ہوتے ہیں۔جس کے لئے ایک نبی زیادہ دعائیں کرے گا۔اس پر رحمت و برکات کا نزول بھی زیادہ ہوگا۔ذیل کے اقتباسات سے ظاہر ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نواب صاحب اور آپ کے اہل وعیال کے لئے کتنی اور کس قسم کی دعائیں کی ہیں اور کتنی توجہ سے کی ہیں سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا بیان ہے کہ نواب صاحب حضور کو دعا کے لئے خط لکھتے تو فرماتے کہ آدھی تسلی تو خط کے جواب پر ہی ہو جاتی ہے۔دعا کرنے اور دعا کرانے کے متعلق حضرت اقدس کا ارشاد نواب صاحب کی ڈائری بابت ۱۴ /جنوری ۱۹۰۲ء سے جو معلوم ہوتا ہے درج ذیل ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ جب حضور کی دعائیں نواب صاحب کے حق میں شرف باریابی پا گئیں نواب صاحب ضرور اس پر عمل پیرا ہوئے ہونگے : ۱۴؍ جنوری ۱۹۰۲ء حضرت اقدس نے سیر میں فرمایا کہ دنیاوی امور اور نفسانی خواہشات کے متعلق دعا دیر میں قبول ہوتی ہے اور دینی امور میں جلد۔آج دعا پر حضرت اقدس نے مجھ کو مخاطب کر کے بڑی لمبی تقریر فرمائی۔خلاصہ کلام یہ تھا کہ دعا کرنے اور کرانے کے لئے صبر کی ضرورت ہے۔گھبرانا نہیں چاہئے۔بعض اوقات دوران دعا میں ابتلا بڑھ جاتی ہے۔اپنے آپ کومستقل بناؤ۔روح اور جسم کی کامل عاجزی دکھاؤ کیونکہ ان دونوں کی ملی ہوئی عاجزی سے دعا قبول ہوتی ہے۔جب تک دعا کرانے والے میں خود اصلاح اور خداوند تعالے سے صلح نہ ہو دُعا کرنے والے کی دعا بے فائدہ ہوتی ( ہے ) اور قبولیت دعا کی حالت میں بھی۔دعا کی حالت ایک درخت کی سی ہے کہ جب اس کی پت جھاڑ ہو جاتی ہے تو پھر نورس کے وقت گو کام شروع ہو جاتا ہے لیکن کچھ عرصہ تک پتہ نہیں چلتا کہ یہ درخت خشک ہے یا تر۔پھر اس میں آنکھیں پھوٹتی ہیں پھر شگوفہ آتا ہے پھر پھل لگتا ہے پھر وہ پھل تبدر یج پکتا ہے پھر رسیدہ ہو کر کھانے کے قابل ہوتا ہے۔اسی طرح ولادت انسان کا مسئلہ ( ہے )۔پس خدا تعالیٰ کے کام میں تدریج ہوتی ہے۔شتابکار خائب و خاسر رہتا ہے۔جو چیز انہونی ہوتی ہے اُس کی خبر جلد اور جو بات ہونی ہوتی ہے اس کی اطلاع یا وہ کام دیر میں ہوتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔