اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 679 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 679

679 -1 حضور نواب صاحب کو ۱۸۹۰ء میں تحریر فرماتے ہیں : عنایت نامه متضمن به دخول در سلسلہ بیعت ایں عاجز موصول ہوا۔دعاء ثبات و استقامت در حق آن عزیز کی گئی۔ثبتكم على التقوى والايمان و فتح لكم ابواب الخلوص والمحبته والعرفان _آمین ثم آمین۔Mar بقیہ حاشیہ: - نواب صاحب دعاؤں کی خاطر حضرت اقدس کے قرب میں رہنے کی جس قدر اہمیت سمجھتے تھے وہ آپ کے مکتوب کے ذیل کے اقتباس میں ظاہر ہے۔جو آپ نے اپنی ہمشیرہ کو تحریر فرمایا: جہاں تک مجھ کو تجربہ ہوا ہے اس سے قادیان میں علاج میں بڑے فوائد ہیں۔۔۔۔علاج روحانی کا یہاں سماں ہے۔دعا کے لئے موقع حاصل۔دعا کے لئے میں مختصر عرض کرتا ہوں کہ دعا کرنے کرانے کا قاعدہ لوگ بالکل نہیں جانتے۔دعا کرنے کے لئے تو چاہئے صبر اور استقلال۔اس طرح دعا مانگے جس طرح فقیر لوگوں سے مانگتے ہیں۔فقیر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک خرگرا جو اڑ کر لیتے ہیں۔جب تک ان کو دیا نہ جائے ملتے نہیں۔ایک ہوتے ہیں نر گدا جو صدا کی اور چلدیئے۔تو دعا کرنے والے کو خر گدا بننا چاہئے یعنی اسی طرح دعا کرے اور یہانتک کرے کہ مراد حاصل ہو جائے اور اس دعا کرنے والے کو چاہئے کہ خواہ جان ہی کیوں نہ نکل جائے دعا کرتا رہے کیونکہ بعض دعائیں دیر میں منظور ہوتی ہیں اور بعض دعائیں ایسی ہوتی ہیں کہ جس کام کے لئے کی جاتی ہیں وہ کام دعا کرنے والے کے لئے مضر ہوتا ہے۔پس خدا اس کی دعا اس کے منشاء کے بموجب ایسی حالت میں منظور نہیں کرتا بلکہ کسی اور رنگ میں جو اس کے لئے مفید ہوتا ہے پورا کر دیتا ہے۔پس انسان کو مرتے دم تک دعا کرنی چاہئے اور دعا سے تھکنا نہیں چاہئے یاتن رسید بجاناں یا جاں زتن بر آید یعنی یا تو مطلب تک انسان پہنچ جائے اور مطلب حاصل ہو جائے یا جان تن سے نکل جائے اب رہا دعا کرانا اس کے لئے ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح کرے۔جس سے دعا کرائی جائے اُس سے گہرا تعلق پیدا کیا جائے اور صبر اور استقلال سے کام کرے تو دعا کرانی چاہئے بلا تعلق انبیاء سے بھی دعا کم نکلتی ہے۔چنانچہ حضرت اسحق کا قصہ ہے کہ ان کو اپنا ایک لڑکا زیادہ پیارا تھا مگر کوئی خصوصیت نہ کر سکتے تھے آخر انہوں نے فرمایا کہ میں تمہارے لئے دعا کرنا چاہتا ہوں تم میرے لئے کچھ کھانے کے لئے لاؤ تاکہ تعلق اور خصوصیت پیدا ہو کر دعا کی تحریک کا سبب ہو۔چنانچہ اس بیٹے نے یہ کیا کہ فور آشکار کو چلا گیا تا کہ وہ باپ کے لئے کوئی عمدہ شکار لائے حضرت اسحق کے دوسرے بیٹے حضرت یعقوب کی والدہ یہ کل معاملہ سن رہی تھیں انہوں نے فوراً ایک