اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 677 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 677

677 ۴۸۱ المسلم مرأة المسلم ہر مسلم کو مسلم کامل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس بننا چاہتے تبھی وہ مسلم کہلانے کا مستحق ہوگا۔نواب صاحب نے اپنے آئینہ دل کو اتنا صیقل کیا کہ بروز مسلم کامل کے بروز حضرت جری اللہ فی حلل انبياء عليهما الصلوة والسلام کے اخلاق و اوصاف حمیدہ کے انوار آپ کے اندر منعکس ہو کر یوں جلوہ گر ہوئے کہ آپ نہ صرف خود نور علی نور ہو گئے بلکہ اپنے قابل تقلید اسوہ کی ضوفشانی سے دوسروں کے لئے حجته الله قرار پا کر رہبری و ہدایت کا موجب ہوئے۔یہ امر بھی نواب صاحب کے مورد برکات بننے کا ذریعہ بنا کہ نماز جو معراج المومن ہے اسے آپ سنوار سنوار کر ادا کرتے اور استعانت کے لئے جبیں نیاز آشیانہ الہی پر جھکاتے۔آپ حضرت اقدس کی دعائیں جذب کرنے کے طریق سمجھتے تھے کہ ایک تو اپنے قلب میں جلا پیدا کیا جائے نیز فقید المثال قربانیاں اللہ تعالیٰ کے سلسلہ اور مخلوق کے لئے کی جائیں۔اسی طرح حضور کے قرب میں قیام کا سامان کیا جائے تا دعا کے مواقع حاصل ہوتے رہیں۔آپ کی ہجرت اور تمام مشاغل اور قربانیاں اس کی عملی تفسیر ہیں۔اور یہ سب کچھ اعلیٰ اور پاک تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔بیشک انبیاء کرائم کا زمانہ انقلاب کا سارنگ رکھتا ہے۔دوسرے زمانہ میں جو علم وعرفان اور ترقی درجات برسوں کی ریاضت اور سینکڑوں مجاہدات سے حاصل نہیں ہوتے۔زمانہ نبوت میں بسہولت تمام حاصل ہو جاتے ہیں۔انبیاء کرام کے پاس جو بھی اخلاص سے آتا ہے ان کی صحبت فیض بخش اور دعا مستجاب سے پارس بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے فصــل عليهم ان صلوتک سکن لهم کہ مومنین کے لئے تیری دعائیں تسکین بخش ہیں لیکن یہ ظاہر ہے کہ استفاضہ بقدر ظرف ہوتا ہے۔ظرف کی کیفیت و مزاج کے تغایر کے باعث ایک چیز ایک کے لئے غذا اور دوسرے کے لئے زہر ثابت ہوتی ہے۔باران رحمت کا نزول یکساں طور پر ہوتا ہے لیکن بقول MAY باران که در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله روند و در شوره بوم و و خس ایک ہی بارش سے کہیں لالہ ور یحان اگ پڑتے ہیں اور کہیں بودار پودے اور جھاڑیاں۔ایک ہی جگہ سے سیراب ہونے کے باوجود درختوں کے نشو ونما اور ثمر ور ہونے میں فرق ہوتا ہے ظرف کے مطابق ایک ہی زمین میں اُگنے اور ایک سی حرارت و تمازت حاصل کرنے کے باوجود ایک پودا تو زمین کے ساتھ لگا ہوتا ہے اور صرف چند انچ جگہ گھیرتا ہے اور ہوا کے خفیف سے جھونکے سے اکھڑ جاتا ہے۔دوسرا درخت اپنے پھیلاؤ اور وسعت کی وجہ سے حیران کن ترقی کرتا ہے۔اس کی جڑیں پاتال تک پہنچتی اور شاخیں فضاء آسمانی سے باتیں