اصحاب احمد (جلد 2) — Page 626
626 کہتے تھے کہ ہماری جماعت کے بعض کو ایک دو خوا ہیں آگئیں اور بچی ہوگئیں اور ایک آدھ الہام ہو گیا تو اپنے تئیں کچھ مجھنے لگ گئے اس لئے آپ خوابوں وغیرہ کے اظہار سے ڈرتے تھے کہ یہ امر بھی فتنہ کا موجب بن جاتا ہے۔صفائی کا بہت خیال عمر بھر رہا قریبا ہر وقت باوضور بہتے تھے گندگی سے سخت متنفر تھے تو آخری علالت میں ایک کشفی حالت پیدا کر کے خدا نے ان کی تسکین کا سامان یوں پیدا کیا کہ جیسا انہوں نے خود بتلایا کہ جب مجھے تمیم کرایا جاتا ہے گویا ایک طلسم کا سا کارخانہ ہے کہ تیم کر چکتا ہوں اور اس بستر سے مجھے اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور ایک صاف لیتے ہوئے کسان کے گھر میں نماز پڑھتا ہوں جہاں میں نے سلام پھیرا اور پھر دیکھتا ہوں کہ اپنے بستر پر ہوں اور تم سب گرد موجود ہو یہ بات پورے ہوش میں مجھے انہوں نے بتلائی پہلے ایک دوبار میں نے اس کو ویسے ہی سمجھا کہ بیماری میں دماغ پر اثر ہے مگر ایک دن پورے ہوش میں پھر سب سُنایا اور یہ بھی کہا کہ میں نے پہلے دوبارتم کو بتانا چاہا مگر تم نے ٹھیک سُنا نہیں۔تم شاید ہذیان بجھتی تھیں مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے ساتھ یہی عجیب معاملہ ہورہا ہے کہ جہاں تمیم کی تھیلی پر ہاتھ مارا اور میں یہاں سے غائب ہوتا ہوں اور جہاں سلام پھیرا اور پھر یہاں بستر پر آن موجود ہوتا ہوں واللہ اعلم یہ کیا معاملہ تھا گھر بھی ایک ہی ان کو کسان کا دکھا یا جا تا تھا بہر حال پاکیزگی کی جو ان کو تڑپ تھی اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ضرور کچھ سامان کر دیا تھا۔یه کشفی حالت مرض الموت میں بار ہا آپ پر طاری ہوتی رہی چنانچہ سیدہ موصوفہ بیان فرماتی ہیں کہ : ’ وفات سے دو تین روز پہلے کی بات ہے کہ ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے آپ کی طبیعت بہت خراب تھی کہ آپ نے فرمایا کہ مودود کو کیوں مارا ہے کہا کہ اسے کسی نے نہیں مارا کہا اس کو میرے پاس لاؤ۔آپ کے فرمانے پر عزیز کو بلایا گیا۔اب معلوم ہوا کہ واقعی اس کی والدہ نے اس کو اسوقت مارا تھا۔تو آپ نے اسے پیار کیا مسعود احمد سے کہا کہ اسے مارا نہ کریں۔ایک دن میاں محمد احمد صاحب کو زکام تھا۔وہ دوسری طرف چلے گئے اور آپ کے پاس تمام دن نہیں آئے کہ تکلیف ہوگی آپ نے پوچھا کہ میاں محمد حمد نہیں آئے اور پھر خود ہی فرمایا کہ ان کی تو خود کمر میں بہت رد ہے۔اتنے میں امتہ الحمید بیگم آئیں اور انہوں نے کہا کہ ان کے ( محمد احمد ) کمر میں بہت درد ہے حالانکہ اس بات کا مجھے بھی علم نہیں تھا اور وہ یہی کہہ کر گئے تھے کہ زکام ہے۔تدفین کے روز حضرت میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب نے ایک بات سُنائی تھی جس کا حضرت نواب صاحب پر انکشاف ہوا تھا اسے حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کے الفاظ میں درج کرتا ہوں فرماتی ہیں: وفات سے چھ سات روز پہلے کی بات ہے کہ بار بار فرماتے تھے کہ فتنہ کا بہت ڈر ہے کئی سازشیں ہو رہی ہیں۔بڑا فتنہ ہے۔حضرت صاحب کو اور (صاحبزادہ مرزا)