اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 625 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 625

625 علالت کا بھی سفروں میں گزار کر آخر وہی ہوا کہ ان کی دُعا خدا نے قبول کی اور قادیان دارالامان میں ہی وفات نصیب ہوئی۔”میرے لئے زندگی میں گوسب سے بڑا غم ان کی جدائی کا ہی وقت تھا مگر وہی وقت حقیقت میں میری سب سے بڑی خوشی کا بھی ہو گیا جب واپس آنے والوں نے کہا کہ ہم انکو بہشتی مقبرہ میں دفن کر آئے ہیں بے اختیار میرے دل نے کہا الحمد للہ اس جذ بہ سے غالباً ہر احمدی آشنا ہوگا“۔حالات سے مجبور ہو کر کئی سال آخری کو ٹلہ میں ہی گزارے اور سروانی کوٹ میں قیام رہا جتنا بھی کہا جاتا مجبوری ہی ظاہر کرتے اور قادیان کو واپسی میں التوا ہی ہوتا رہتا ۴۲ء میں خود ہی اپنے ریاستی اور مالی معاملات کو جیسے بھی ہو سکا کچھ انتظامی صورت دی اور قادیان واپسی کی تیاری بغیر کسی کی تحریک خاص کے کر لی۔بہت انہماک سے روز وشب لگ کر کام ہوتا رہتا اور جانے کا پختہ طور پر ذکر رہتا تو اب سب کو وہاں فکر ہوا نواب صاحب مالیر کوٹلہ خود اور دوسرے عزیز بہت آتے اور کہتے کہ ابھی آپ نہ جائیں مگر یہ یہی کہتے کہ اب وقت آگیا ہے اب تو مجھے قادیان جانا اور وہیں رہنا ہے۔غرض سب نے بہت زیادہ کوشش کی مگر وہ جو پہلے یہاں آہی نہ سکتے تھے اب سب کے اتنے اصرار کے باوجود وہاں ذرا اور نہ ٹھہرے اور قادیان آگئے۔یہ الفاظ کئی بار کہے کہ اب میرے قادیان سے باہر رہنے کا وقت نہیں رہا۔یہاں آکر ۴۳ ء کے نومبر میں علیل ہوئے اور آخر کار ۱۰ر فروری ۱۹۴۵ ء شام کے ۸ بجے کینسر مثانہ کے موذی مرض سے انتقال فرمایا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔مرض الموت کے حالات سیدہ محترمہ بیان فرماتی ہیں: بیماری میں بھی ہر وقت صفائی اور طہارت کا خیال رہتا صرف ۱۸ دن بستر پر مجبوراً لیٹے جب بالکل طاقت نہ رہی۔ورنہ بڑی ہمت قائم رکھی بڑا حوصلہ دکھایا میں گھبرا جاتی تو مجھے تسلی دیتے اور گھبرانے سے منع کرتے۔کہتے مومن گھبراتا نہیں صرف دُعا کرتا ہے۔تم دل چھوڑتی ہو بڑے افسوس کی بات ہے۔جب تک تکلیف حد صبر سے نہ گذرگئی اپنی طبیعت کو سنبھال کر بڑے صبر کے ساتھ بشاش ہی نظر آنے کی کوشش کرتے رہے۔اس حال میں بھی جو پوچھنے کو آتا اس کا حال وغیرہ پوچھتے اور خوشی سے بات چیت کرتے۔بالکل آخری دنوں میں مالیر کوٹلہ سے جو عزیز اور خادم و غیر متعلقین آئے سب سے بہت اچھی طرح ملے اور سب کی خیریت دریافت کی۔ابتداء میں خواب سُنا دیتے تھے اور گا ہے لکھ بھی لیتے تھے لیکن پھر سُنانے اور تحریر کرنے سے رُک گئے اور