اصحاب احمد (جلد 2) — Page 627
627 ناصر احمد صاحب کو کہنا چاہئیے کہ انتظام کرلیں اور پھر جب آنکھ کھلتی اور پھر بیدار ہوتے تو بار بار پوچھتے تھے کہ کیا انہیں اطلاع کر دی ہے۔میاں ناصر احمد اور حضرت صاحب کو ویسے بھی کئی بار بہت زور سے یہی ذکر کرتے تھے گھبرا کر “ یہ فتنہ عظیم تقسیم ملک کی صورت میں نمودار ہوا جس سے جماعت احمدیہ کو مجبوراً اپنے مقدس مرکز قادیان سے ہجرت کرنی پڑی۔آپ کی طبیعت ہمیشہ شام کو ذرا مضمحل ہو جاتی تھی لیکن صبح کے وقت بہت ہی اچھی ہوتی تھی اور بشاش۔آپ کی عادت تھی کہ نماز صبح کے بعد بالکل نہیں سوتے تھے خواہ رات کو دو بجے ہی تہجد وغیرہ کے لئے اُٹھے ہوں۔علالت میں ایک دن مجھے خیال آیا کہ آپ کی وفات کہیں شام کو نہ ہو اس دن شام آپ کی طبیعت بہت خراب ہوگئی لیکن صبح پوری ہوش میں آگئے ایک دفعہ آخری دن فرمایا کہ ابھی آٹھ گھوڑوں والی گاڑی میرے لئے آئی تھی میں اس پر جارہا تھا۔میں نے دریافت کیا کہ آپ نے خواب دیکھا ہے کہنے لگے کہ ہاں خواب میں دیکھا ہے۔میں نے پوچھا میں بھی ساتھ تھی تو کچھ کہا جو سمجھ نہیں آیا۔مکرم میاں محمد عبداللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں: مرض الموت کے ایام میں غالباً وفات سے دو دن قبل ماموں جان کرنل اوصاف علی خانصاحب تشریف لائے۔والد صاحب ان سے فرمانے لگے کہ دنیا چند روز ہے آپ نے بھی مرنا ہے میں نے بھی مرنا ہے لیکن بہتر ہی ہے کہ مرنے سے پہلے عمل اور شکل احمدیت کے مطابق ہو۔پھر حضرت مسیح موعود۔حضرت خلیفتہ اسیح اول - حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور چند اور صحابہ کا نام لیا لیکن تمام فقرات ضعف کی وجہ سے سنے نہ گئے اور خاموش ہو گئے۔ماموں جان کی ڈاڑھی منڈی ہوئی تھی۔ان پر نصیحت کا اس قد را ثر ہوا اور اتنی رقت طاری ہوئی کہ وہاں ٹھہر نہ سکے بلکہ روتے ہوئے باہر نکل آئے۔اس دن سے انہوں نے داڑھی رکھ لی۔فرماتے تھے کہ مجھ پر نواب صاحب کے بڑے ہی احسان تھے۔مرتے وقت بھی مجھ پر احسان کر گئے۔حضرت مسیح موعود جتنی عمر پانے کی خواب نواب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جتنی عمر پانے کے متعلق خواب دیکھا تھا جو پورا ہوا۔اس میں ایک لطیف امر یہ ہے کہ جیسا کہ حضور نے نواب صاحب کے جسمانی فرزندی میں آنے سے قبل آپ کے لئے فرزند کا لفظ استعمال فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے ظاہری فرزندی بھی نصیب کی نواب صاحب کی