اصحاب احمد (جلد 2) — Page 374
374 پر ظلم کیا اور بہت ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں تو میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔(آمین ) اگر اب بھی بدظنی سے کام لینے والے باز نہ آئیں تو ان کے لئے بجز دعا کے ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔اللهم اهدهم وارحمهم وَالسّلام المشتهران محمد علی خاں، شیر علی۔از قادیان ۲۱ / مارچ ۱۹۱۴ء اسی تاریخ کو امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بارہ صفحہ کا ٹریکٹ بنام ” کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے، شائع ہوا جس میں حضور نے مخالفین خلافت کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے بتایا ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور جماعت کے اتحاد اور شریعت کے احکام کے پورا کرنے کے لئے ایک خلیفہ کا ہونا ضروری ہے۔اور اس امر کی تردید کی ہے کہ سلسلۂ خلافت سے شرک پھیلتا ہے۔اور گدیوں کے قائم ہونے کا خطرہ ہے۔اور اس خبر کو غلط قرار دیا کہ ابھی تک کوئی خلیفہ مقرر نہیں ہوا اور بتایا کہ بیعت ضروری ہے اور مجھے بلا درخواست و کوشش خلیفہ بنایا گیا ہے اور یہ الزام غلط ہے کہ میں جھوٹا اور بڑائی کا طلبگار ہوں۔اور اس خیال کی بھی تردید کی کہ خلافت کے انتخاب کے لئے ایک لمبی معیاد مقرر ہونی چاہئے تھی۔اور جماعت کو تفرقہ کی راہ سے احتراز کرنے اور اتحاد اختیار کرنے کی تلقین کی ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا ہے کوئی مجھے معزول نہیں کرسکتا اور احباب کو دعاؤں، روزہ ، تہجد اور صدقہ کی نصیحت کی ہے تا کہ تفرقہ کی مصیبت ٹل جائے۔اور فرمایا۔فتنے ہیں اور ضرور ہیں مگر تم جو اپنے آپ کو اتحاد کی رسی میں جکڑ چکے ہو خوش ہو جاؤ کہ انجام تمہارے لئے بہتر ہوگا۔تم خدا کی ایک برگزیدہ قوم ہو گے اور اس کے فضل کی بارشیں انشاء اللہ تم پر اس زور سے برسیں گی کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔میں جب اس فتنہ سے گھبرایا اور اپنے رب کے حضور گرا تو اس نے میرے قلب پر یہ مصرعہ نازل فرمایا۔وو شکر اللہ مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل! اتنے میں مجھے ایک شخص نے جگادیا اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔مگر پھر مجھے غنودگی آئی اور میں اس غنودگی میں اپنے آپ کو کہتا ہوں کہ اس کا دوسرا مصرعہ یہ ہے کہ کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہوگیا مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ دوسرا مصرعہ الہامی تھا یا بطور تفہیم تھا۔پھر کل بھی میں نے اپنے رب کے حضور