اصحاب احمد (جلد 2) — Page 375
375 میں نہایت گھبرا کر شکایت کی کہ مولا ! میں ان غلط بیانیوں کا کیا جواب دوں جو میرے خلاف کی جاتی ہیں۔اور عرض کی کہ ہر ایک بات حضور ہی کے اختیار میں ہے۔اگر آپ چاہیں تو اس فتنہ کو دور کر سکتے ہیں تو مجھے ایک جماعت کی نسبت بتایا گیا کہ لیمز قنهم یعنی اللہ تعالیٰ ضرور ضرور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتلاء ہیں لیکن انجام بخیر ہوگا مگر یہ شرط ہے کہ تم اپنی دعاؤں میں کوتا ہی نہ کرو۔“ (صفحہ ۱۲) مخالفین خلافت کے اعتراضات کی تردید میں اعلان مخالفین خلافت کے اعتراضات کا کہ خلیفہ تقویٰ کی راہ سے دور ہے۔انہیں مدت سے خلافت کی خواہش تھی۔انصار اللہ کی سازش سے خلیفہ بنائے گئے۔اور صدرانجمن احمدیہ کے ممبروں سے مشورہ کے بغیر یہ کام ہوا۔وہ جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔حضرت صاحب کے جاری کردہ کاموں کو روکنا چاہتے ہیں۔لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔صدرانجمن احمدیہ کو توڑنا چاہتے ہیں۔حضرت اقدس کے پرانے مخلصوں کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں وغیر ہا کا جواب صداقت ہمیشہ غالب رہتی ہے کے زیر عنوان مولوی سید محمد احسن صاحب، نواب صاحب، مولوی شیر علی صاحب، صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب، ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ممبران صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے ۷ اپریل ۱۹۱۴ء کو شائع کیا گیا۔خلافت ثانیہ میں پہلی شوری کا بلایا جانا اور قواعد صدرانجمن میں تبدیلی خلافت ثانیہ کے قیام کے تین ہفتہ کے اندر ہی بمقتضائے حالات جماعتوں کو شوری کے لئے نمائندگان بھیجنے کے لئے ذیل کی چٹھی ارسال کی گئی تا کہ خلافت کے مفوضہ امور کی سرانجام دہی کے مطابق حضور مشورہ کرسکیں۔برادر مکرم سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔حسب ارشاد حضرت امیر المؤمنین خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ مرقوم ہے کہ چونکہ بعض ضروری امور متعلقہ نظام سلسلہ پر غور اور قومی معاملات پیش آمدہ میں باہمی مشورہ کی ضرورت ہے۔اس لئے قرار پایا ہے کہ یہاں ۱۲ را پریل ۱۹۱۴ء کو ایک جلسہ احباب منعقد کیا جائے۔اس لئے آپ اپنے مقام کے ان تمام احباب کو جو حضرت امیر المومنین خلیفہ ثانی کی بیعت میں داخل ہو چکے ہیں جمع کر کے اور دو قائمقام سب کی طرف سے منتخب کر کے ۱۱ را پریل ۱۹۱۴ء کی شام کو قادیان بھیج یہ دو ورقہ اعلان بطور ضمیمہ الحکم بابت کے اپریل ۱۹۱۴ ء شائع ہوا۔