اصحاب احمد (جلد 2) — Page 192
192 تھے جو کہ ہماری والدہ صاحبہ نے استعمال کئے اور اس کے استعمال کے بعد ہر دفعہ لڑکا پیدا ہوتا رہا جن کے نام حسب ذیل ہیں عبد الرحمن خاں (ولادت ۱۹ را کتوبر ۱۸۹۴ء) عبداللہ خاں (ولادت یکم جنوری ۱۸۹۶ء) عبد الرحیم خاں ( ولادت ۱۳ یا ۱۴ جنوری ۱۸۹۷ء) اور عبدالرب جو ۱۸۹۸ء میں والدہ کی وفات کے چند روز کے اندر ہی فوت ہو گئے تھے۔دوسری شادی جیسا کہ حضرت اقدس کے تعزیتی مکتوب میں ہم پڑھ چکے ہیں حضرت اقدس متفکر تھے کہ مبادا نواب صاحب فرط غم سے بیمار ہو جائیں اور ان کو بہادر بنے اور استقامت دکھلانے کی تلقین کی تھی۔اس مکتوب کے تین روز بعد ۲۱ نومبر کو پھر حضوڑ نے تحریر فرمایا کہ آپ حسب تحریر میرے استقامت اور استواری سے کام لے کر جلد تر تجویز شادی فرماویں ( مکتوب نمبر ۳۷) اس سے اگلے روز پھر صبر واستقامت کی تلقین کرتے ہوئے حضور نے جلد تر شادی کرنے کی نصیحت پر مشتمل مکتوب ارسال فرمایا اور اس میں کیا شک ہے کہ مونس و غم گسار رفیقہ حیات کے آنے سے غم غلط ہونے کا یقینی امکان ہوتا ہے چنانچہ اس مشورہ کو قبول کرتے ہم اس مکتوب کو مندرجہ ذیل میں درج کرتے ہیں حضور فرماتے ہیں الله الرحمن الرحيم ☆ نحمده و نصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا اللہ تعالی آپ کو صبر اور استقامت بخشے اور اس مصیبت کا اجر عطا فرما دے۔دنیا کی بلائیں ہمیشہ نا گہانی ہوتی ہیں۔یہ نہایت ضروری ہے کہ جہاں تک جلد ممکن ہو آپ دوسری شادی کی تجویز کریں۔میں ڈرتا ہوں کہ آپ کو اس صدمہ سے دل پر کوئی حادثہ نہ پہنچے جہاں تک ممکن ہو کثرت غم سے پر ہیز کریں۔دنیا کی یہی رسم ہے۔نبیوں اور رسولوں کے ساتھ بھی ہوتی آئی ہے۔اللہ تعالیٰ جس سے پیار کرتا ہے اس کو کسی امتحان میں ڈالتا ہے اور جب وہ اپنے امتحان میں پورا نکلتا ہے تو اس کو دنیا و آخرت میں اجر دیا جاتا ہے۔ایک آپ کو اطلاع دینے کے لائق ہے کہ آج جو پیر کا دن ہے یہ رات جو پیر کی گذری ہے اس میں غالباًا تین بجے کے قریب آپ کی نسبت مجھے الہام ہوا تھا اور وہ یہ ہے فَبِايِّ عَزِيزِ بَعْدَهُ تَعْلَمُونَ ا یہ اللہ جل شانہ کا کلام ہے وہ آپ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اس حادثہ کے بعد اور کون سا بڑا حادثہ ہے جس سے تم عبرت پکڑو گے اور دنیا کی بے ثباتی کا تمہیں علم حاصل ہوگا۔در حقیقت اگر چہ بیٹے بھی پیارے ہوتے ہیں اور بھائی بہن بھی