اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxiv
۱۲ اشاعت کے بعد حضرت عرفانی صاحب کو تحریک ہوئی کہ حضرت سیٹھ شیخ حسن صاحب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ لکھنے کے متعلق اپنا وعدہ پورا کریں۔چنانچہ آپ نے اخویم مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل وکیل یادگیری کی امداد سے اڑھائی صد صفحات پر مشتمل ” تذکرہ حسن، تصنیف فرمایا ہے جس کی قیمت تین روپے ہے۔حضرت مصنف کسی تعریف کے محتاج نہیں کہ ان کی تصنیف کے متعلق کچھ لکھا جا سکے آپ کے نام سے ہی آپ کے کام کے علو مرتبت کا اندازہ ہوسکتا ہے جلد اول میں میں نے بھی مختصر ا حضرت سیٹھ صاحب کے حالات دیئے تھے۔یہ خوشی کی بات ہے کہ حضرت عرفانی صاحب کے قلم سے خوب مفصل حالات ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئے ہیں۔ہر دو کتب ہندوستان میں میر رفیع احمد صاحب دار مسیح قادیان سے اور پاکستان میں شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی رام گلی نمبر ۳ مکان نمبر ۱۸لا ہور سے دستیاب ہوسکتی ہیں۔ضروری گذارش میرے مخاطب تابعین کرام ہیں ان کی خدمت میں مودبانہ التماس ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا خيــر الـقـرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم “ کو بعد میں ظاہری فتوحات اور اسلامی عروج اور شان و شوکت کا زمانہ آنیوالا ہے۔لیکن روحانیت کے لحاظ سے میری صدی بہترین ہے۔پہلی صدی وہ تھی جس میں آنحضرت صلعم اور آنحضرت صلعم کے صحابہ تھے جن کے عشق و محبت کا نظارہ دنیا نے کبھی نہ دیکھا تھا۔اے میرے دوستو جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فدا نفسی وابی واقعی ) کے مثیل علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا۔یہ زمانہ پھر نہ لوٹے گا۔حضور کی ولادت پر ایک سوسترہ سال آغاز بیعت پر تریسٹھ سال اور حضور کے وصال پر چوالیس سال بیت چکے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ ہم اس زمانہ سے دُور جارہے ہیں۔اب بھی حضور کے صحابہ کرام کی وجہ سے ہمارے لئے خیر القرون کے زمانہ کا ایک حصہ باقی ہے۔ہم ان چلتے پھرتے عشق و فدائیت کے مجسموں کو بعد میں تلاش کریں گے اور محروم رہیں گے۔اگر ہم ان موتیوں کی قدر نہیں کرتے ان سے پوری طرح مستفیض نہیں ہوتے اور ان کی پاک صحبتوں سے استفادہ نہیں کرتے تو بعد میں سوائے حسرت کے ہمارے لئے کچھ نہ ہوگا۔ان سے فائدہ اُٹھانا چاہئیے۔ان سے پاک باتیں سُن کر۔اُن سے دُعائیں لیکر۔ان کے بابرکت دور کے ممتد ہونے کے لئے دعائیں کر کے۔ان کی باتوں کو محفوظ کر کے۔ان کے سوانح اور سلسلہ کی تاریخ محفوظ کر کے اور سب سے بڑھ کر کہ ان کی سی فدائیت للہیت اور عشق و محبت اور جذ بہ قربانی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے کہ روحانی سلسلے بہترین جانشینوں کے ساتھ جلدی ترقی کرتے ہیں مبادا کوئی دوسری قوم بہترین جانشین ثابت ہو اور وہ ہم سے گوئے سبقت لے