اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxv
جائے۔اللهم وفقنا لما ترضى - آمین صحابہ کرام کا مقام ۱۳ صحابہ کرام کا جو مقام ہے اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ؎ مُبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا مجھ کو پایا وہی مے اُن کو ساقی نے پلادی فسبحان الذي اخزى الاعادي اسی طرح حضور علیہ السلام ڈاکٹر عبدالحکیم کے جواب میں فرماتے ہیں: آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک حکیم مولوی نورالدین صاحب اس جماعت میں عملی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں دوسرے ایسے ہیں اور ایسے ہیں میں نہیں جانتا کہ آپ اس افترا کا کیا خدا تعالیٰ کو جواب دینگے میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ نیچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیروؤں سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار ہادرجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔ہاں شاذونادر کے طور پر اگر کوئی اپنی فطری نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہا ہو تو وہ شاذ و نادر میں داخل ہے میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں اگر آج ان کو کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردار ہو جاؤ تو وہ دستبردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سُنا تا۔مگر دل میں خوش ہوں۔اس بارہ میں حضرت امیر المونین خلیفہ مسیح الثانی ید اللہ تعالی فرماتے ہیں: لوگوں کو یہ احساس ہونا چاہئیے کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے