اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page xxiii of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxiii

میں سے صرف چند ایک باقی ہیں ان کے زمانہ میں جو کچھ شائع ہوگا اس کی تصحیح بھی ہو سکے گی۔اور ان سے مدد بھی مل سکے گی جو بعد میں حاصل نہ ہو سکے گی۔سو یہ قلیل زمانہ بہت قیمتی ہے۔اخراجات کا انتظام ہونے پر ایک سال میں دو بلکہ زیادہ جلدیں شائع کی جاسکتی ہیں۔اور اس طرح کام زیادہ تیزی سے ہوسکتا ہے۔میرے بس میں جو کچھ ہے وہ تو میں کرتا ہوں مثلاً اپنی نیند کم کر دوں۔اپنے ذاتی کاموں کے حرج کی پرواہ نہ کروں دوستوں سے میل ملاقات کم کروں۔اسی طرح باوجود ڈاکٹری مشورہ کے اور بار بار کے مشورہ کے سیر و تفریح ترک کئے رکھی۔کاغذ کی بچت کی خاطر مستعمل لفافے نوٹ وغیرہ کے لینے کے لئے استعمال کرتا ہوں۔جو کچھ احباب کے ذمہ ہے اس کے متعلق وہ خود سمجھ سکتے ہیں مجھے اس امر سے تکلیف ہوتی ہے بعض صحابہ کے حالات کی فراہمی میں ان کے اقارب تعاون نہیں کرتے اور خطوط کا جواب تک نہیں دیتے۔مجھے ایک بزرگ کا مشورہ ملا ہے کہ اس کام میں قرض لینے سے احتراز کروں اور نہ کسی وقت مشکل میں پھنس جاؤں گا۔اور آئندہ میں اسی پر عمل پیرا ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں۔بہر حال اس کام کی اہمیت احباب پر واضح کر دی گئی ہے۔میرے لئے بحالات موجودہ جتنا ممکن ہے انشاء اللہ تعالیٰ اتنا شائع کرتا جاؤنگا۔ولا حول ولاقوة الا بالله العلى العظيم بعض دوستوں نے تحریر فرمایا ہے کہ پہلے صرف اولین اور جلیل القدر صحابہ کے حالات یا ۳۱۳ صحابہ کے حالات شائع کرنے مناسب تھے میں نے جلد اوّل کے عرضِ حال میں تفصیلاً عرض کیا ہے کہ حالات کی فراہمی میں صد با مشکلات درپیش ہیں۔۳۱۳ صحابہ میں سے بعض کے متعلق کسی ایک بات کا بھی علم نہیں ہوتا۔چنانچہ اس کتاب میں جلسہ سالانہ ۹۲ ء کے ضمن میں متعد د۳۱۳ اصحاب کے حالات میں نے درج کئے ہیں۔ہمارے موجودہ قدیم ترین صحابہ بھی ان میں سے بعض کے متعلق ایک لفظ نہیں بتا سکے اور بعض کے متعلق جو تفصیل ملی ہے وہ چند سطور سے زیادہ نہیں۔اس صورت میں دوسروں کے حالات کو روکے رکھنا میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب وقت غنیمت جان کر جتنے اصحاب کے حالات شائع کئے جاسکیں اس میں تعویق مفید ثابت نہ ہوگی لیکن میں نے یہ التزام رکھا ہے کہ اصحاب احمد میں مقصود بالذات وفات یافتہ صحابہ کے حالات کا شائع کرنا ہے۔بعض دوستوں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ حالات زیادہ مبسوط نہیں ہونے چاہئیں لیکن میری رائے میں اگر غیر مطبوعہ مو اداس وقت طبع نہ کیا جائے تو سلسلہ کی تاریخ کا ایک کارآمد حصہ بغیر مفید جرح وقدح کے رہ جائے گا میرے لئے یہ امر باعث مسرت ہے کہ اصحاب احمد کی تصنیف حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کے سوانح موسومہ حیات قدسی حصہ اول دوم کے جنوری اور ستمبر ۵۷ء میں شائع ہونے کا موجب ہوئی۔یہ سوانح جس قدر ایمان افروز ہیں قارئین کرام سے مخفی نہیں۔اسی طرح اصحاب احمد جلد اول کی