اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxii
اور کچھ دہلی میں اور طباعت کا (انتظام) راولپنڈی میں کرنا پڑا۔دوسری مشکل یہ ہے کہ مصنف حضرات اس امر سے ناواقف نہیں کہ تصنیف کے کام کے لئے کتب و فائل وغیرہ پاس ہونے چاہئیں کہ میری طرح دو دو ہفتہ کا عرصہ بعض کتب کی تلاش میں صرف نہ کرنا پڑے اِسلئے بمشورہ یہ صلاح ٹھہری ہے کہ مستقل کام شروع کرنے کے لئے اخبارات ورسائل کے سابقہ فائل اور کتب سلسلہ وغیرہ خرید کی جائیں جس پر ایک ہزار روپیہ کے لگ بھگ رقم صرف ہونے کا اندازہ ہے۔نیز احتیاط کی خاطر میں نے اپنے مسودات منگوا کر ان کی نقول کروائیں تا ہندوستان و پاکستان ہر دو جگہ مسودہ کی ایک ایک نقل رکھی جاسکے۔اسی طرح کتاب کا مسودہ بھی وقت بچانے کے لئے نقل کروانا پڑتا ہے۔کیونکہ مجھے متعدد دفاتر کا کام کرنا پڑتا ہے۔سلسلہ کی ضروریات کے لیئے بسا اوقات سفر بھی کرنے پڑتے ہیں اس لئے صرف فارغ اوقات میں ہی تصنیف کا کام کیا جا سکتا ہے سو ان نقول و غیرہ پر قریباً سات صد روپیہ خرچ آیا ہے۔کتاب راولپنڈی میں چھپوانی پڑی ہے۔اور کتابت دہلی میں ہورہی ہے اور مسودہ نظر ثانی کے لئے رکن بھجوایا جاتا ہے۔اسی طرح فراہمی حالات کے تعلق میں ڈاک کے کافی اخراجات کرنے پڑے گذشتہ سال سے اس مد میں اس وقت تک تین صد روپیہ صرف کرنا پڑا ہے۔ان اخراجات کے علاوہ کتابت طباعت اور کاغذ اور بلاک بنوائی کے کثیر اخراجات یہ سب کچھ میری حد برداشت سے باہر ہے۔جب میں نے کتابت شروع کروائی اس وقت میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔ایک روز یکدم زور سے تحریک دل میں اُٹھی کہ کتابت شروع کروا دوں۔چنانچہ اگلے دن جمعہ کے روز مسجد مبارک میں حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی سے دعا کرا کے کتابت شروع کرادی۔اور اللہ تعالیٰ نے امداد و قرض کے رنگ میں سامان کر دیا۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ وقت جو کہ اس کام کے لئے صرف کیا جاسکتا ہے۔اس کا بیشتر حصہ مالی مشکلات کے حل کے لئے صرف کرنا پڑتا ہے۔میرا پہلا تجربہ تو یہ ہے کہ فروخت کی رقم سے اخراجات پورے نہیں ہو سکتے ایک حصہ تصنیف کا مفت بھی دینا پڑتا ہے۔اعانت کی رقوم سمیت بمشکل اخراجات پورے ہوتے ہیں یہ کام ایسا نہیں کہ جس میں تعویق کی جاسکے۔جلیل القدر صحابہ کرام بقیہ حاشیہ: - پچاس روپے اصحاب احمد کے لئے اور چھپیں روپے ایک اور کار خیر میں ان کی طرف سے دے دوں۔اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص میں لمحہ بہ لحہ ترقی عطا کرے۔میں اس خط کو پڑھ کر شرمندہ ہوں کہ گجا میری حالت اور گجا ایسے اخلاص والے لوگ۔اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی رحم فرمائے۔میں ان کی اس پیش کش کے قبول کرنے سے معذور ہوں۔جزاه الله احسن الجزاء۔