اصحاب احمد (جلد 2) — Page 146
146 اجلاس میں ذیل کے عہدہ دار منتخب ہوئے۔(۱) پریزیڈنٹ حضرت نواب صاحب (۲) وائس پریزیڈنٹ حضرت مولوی نورالدین صاحب مرزا خدا بخش صاحب (۳) سکریڑی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب (۴) جائنٹ سکرٹری مولوی محمد علی صاحب اور آئندہ سال کے لئے اٹھارہ اشخاص علاوہ ٹرسٹیاں کے مجلس منتظمہ کے ممبر قرار دیئے گئے۔اور ۱۹۰۱ء کے لئے پانچ ہزار تین سو اٹھارہ کا بجٹ (بشمول ڈیڑھ ہزار روپیہ برائے عمارت مدرسہ و بورڈ نگ ) منظور ہوا۔(۱) میر مجلس حضرت مولوی نورالدین صاحب نائب میر مجلس حضرت مولوی عبد الکریم صاحب حضرت میر ناصر نواب صاحب اور سید محمد احسن صاحب جنرل سیکرٹری مولوی محمد علی صاحب جائنٹ سیکرٹری مرزا خدا بخش صاحب۔اسٹنٹ سیکرٹری۔مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اگزامینر آف اکاؤنٹس منشی تاج الدین صاحب۔انجینئر حضرت میر ناصر نواب صاحب۔فنانشیل سیکرٹری حضرت مولوی نورالدین صاحب۔اسٹنٹ فنانشل سیکرٹری مکرم شیخ عبدالرحیم صاحب مہتمم حضرت حکیم فضل دین صاحب۔انسپکٹر مدرسہ مولوی محمد علی صاحب۔اسسٹنٹ انسپکٹر مدرسہ مرزا خدا بخش جنرل انسپکٹر جائداد مرزا خدا بخش صاحب سٹور کیپر حضرت میر ناصر نواب صاحب مقرر ہوئے۔ان ایام میں یہاں جو قلیل مشاہرہ دیا جارہا تھا اس کا علم اس سے ہوتا ہے کہ ابتدائی مدرس سے لے کر ہیڈ ماسٹر تک کا مشاہرہ چھ سے پچاس روپے تک تھا۔ہجرت کر کے آجانے کی تحریک حضرت نواب صاحب کو تعلیمی امور سے حد درجہ شغف تھا آپ انجمن مصلح الاخوان کے زیر انتظام مالیر کوٹلہ میں مدرسہ کا قیام عمل میں لائے تھے۔ہر دو کے متعلق آپ کو تجربہ تھا اور کامیاب تجربہ تھا۔ادھر قادیان کے مدرسہ کی حالت مالی لحاظ سے اور انتظامی لحاظ سے اس امر کی مقتضی تھی کہ حضرت نواب صاحب جیسا انسان اس کی باگ ڈور سنبھال لے۔چنانچہ ابھی مدرسہ کے اجراء پر سال بھی نہیں گزرا تھا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے زور دیا کہ حضرت نواب صاحب قادیان چلے آئیں اس سلسلہ خط و کتابت کا صرف ایک مکتوب مورخہ ۱۸/ نومبر ۱۸۹۸ء دستیاب ہو سکا ہے نہ معلوم یہ خط و کتابت کس وقت سے ہو رہی تھی حضرت مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں: قادیان جمعه ۱۸/ نومبر مکرم خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔جناب کے دو خط کل مجھے مراد مکرم بھائی عبد الرحیم صاحب قادیانی حال درویش قادیان۔آپ اس امر کی تصدیق فرماتے ہیں۔