اصحاب احمد (جلد 2) — Page 145
145 مدرسہ کی بہتری کے لئے حضرت نواب صاحب کی ایک تجویز حضرت نواب صاحب باوجود یکہ مدرسہ کے انتظام میں ابھی شریک نہ تھے معلوم ہوتا ہے کہ سلسلہ کی محبت کی وجہ سے آپ کو اس سے پوری دل چسپی تھی اور آپ کا دردمند دل اس کے فنڈز کی کمی کو پورے طور پر محسوس کرتا تھا اور اس مشکل کے حل کے لئے غلطان و پیچاں رہتا ہو گا۔سوہ رستمبر ۱۹۰۰ء کو جس دن بعد کے ایک فیصلہ کے رو سے آپ ڈائرکٹر مقرر کئے گئے آپ کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے مدرسہ کی آمد کو بڑھانے کے لئے کمیٹی نے ایک فیصلہ کیا اس تجویز کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نواب صاحب کے کسی لمبے غور وفکر کا نتیجہ ہے۔آپ کی تجویز کے مطابق ایک کونسل ٹرسٹیاں ان اصحاب پر مشتمل مقرر کی گئی جو مدرسہ کو کم از کم ساٹھ روپیہ سالانہ مدددیں یامدرسہ کے لئے چندہ وصول کریں۔یا مدرسہ کی علمی مدد کریں چنانچہ اس کے مطابق اکیس اشخاص کونسل ٹرسٹیاں کے ممبر قرار دئے گئے جن میں سے اب صرف مکرم عرفانی صاحب ہی زندہ ہیں۔اطال اللہ بقاہ ۲۹ دسمبر ۱۹۰ء کو بیت السلام قادیان میں بصدارت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کونسل ٹرسٹیان کے بقیہ حاشیہ: - العظیم و نصلی علی رسولہ الکریم دوستو اک نظر خدا کیلئے مسیح موعود کے جان نثار خادم حضور مدوح ایدہ اللہ کے مقاصد سے واقف دینی ضرورتوں کے مہیا کر نیکی پیاس رکھنے والی قوم۔پھر میں ناحق کا دردسر اٹھا کر قصہ کو لمبا کروں۔زمانہ کے معروف چکنے چپڑے فقرے لکھوں کیا حاصل۔صاف اور سیدھی بات کہے دیتا ہوں کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کو آ پکی ہمدردی کی سخت ضرورت ہے۔ممکن ہے کہ ابتک بعض کو معلوم نہ ہو کہ مدرسہ کا خرچ کہاں تک بڑھ گیا ہے اور یہی وجہ انکی بے التفاتی کی ہو۔سوسن لو یکم اگست سے مدرسہ کا ماہوار خرچ ایک سو گیارہ روپیہ آٹھ آنہ ہو گیا ہے۔علاوہ ماسٹر شیر علی صاحب بی۔اے کے ایک لائق ٹرینڈ انڈر گریجوایٹ سیکنڈ ماسٹر منگوایا گیا۔ان سب پر بورڈنگ ہاؤس بنانے کے لئے روپیہ درکار ہے۔کیونکہ مدرسہ کی ترقی طلباء قطعاً اسی پر موقوف ہے۔دائمی چندہ دینے والے مقرر رقم میں کچھ اضافہ کریں۔غافل ہوشیار ہو جائیں اور خدا کے لئے مافات کی تلافی کریں اور مقدور والے اچھی یک مشت رقموں سے اعانت کر کے اجر لیں۔والسلام۔المشتہرعبدالکریم سیالکوٹی منجانب سیکرٹری مدرسہ تعلیم الاسلام