اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 147 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 147

147 ملے۔عصر کے وقت محراب میں جناب کی تکلیفوں کے متعلق میں نے حضرت کی خدمت میں عرض کی اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا اور نہ کوئی خط ہی دکھایا۔فرمایا میری طرف سے انہیں لکھ دیں کہ میں نے التزام کیا ہوا ہے کہ پانچوں نمازوں میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں خدا تعالیٰ وقت پر آثار دکھائے گا۔میں نے جو آپ کو لکھا تھا کہ حضرت اقدس نے آپ کا خط پڑھ کر اس سے اتفاق کیا وہ وہ خط تھا جو آپ نے مرزا خدا بخش صاحب کے متعلق لکھا تھا کہ ان کی نسبت ایسا اور ایسا ارادہ کیا گیا ہے اور کہ انہیں چندہ کی گرداوری کے لئے بھیجنا مناسب نہیں اور یہ کہ ہر شہر میں سر بر آوردہ لوگ اس کام پر مقرر ہونے چاہئیں اور کوئی خط غلام حسین کے ز دو گوب اور انتظام مدرسہ کے متعلق مجھے نہیں ملا۔میں نے مدرسہ کے متعلق بہت فکر کی ہے میری رائے میں اس کی الجھنوں کا سلجھانا ایسا دشوار ہے کہ ایک لحاظ سے محال کے قریب قریب جاپڑتا ہے معاً اس یقین سے لبریز ہوں کہ اللہ تعالیٰ پر اس کا آسان کرنا آسان ہے۔نیت کے تمام گوشوں کو خوب مطالعہ کر کے کامل اخلاص اور خدا ترسی کو مد نظر رکھ کر دلیری سے آپ ایک بات کا فیصلہ کر دیں۔پھر دیکھ لیں کوئی بھی حرج وھرج پیدا نہ ہوگا۔میں سالہا سال کے تجربے سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ شجاعت سے ایک امر طے کرنے والا آخر اپنی راہ صاف اور ہموار دیکھ لیتا ہے۔مدرسہ کے متعلق بعض لوگوں نے ایسی ناجائز کا رروائی کی ہے کہ اس کے تصور سے بھی دل کانپتا ہے۔غلام حسین کا معاملہ ایک فیصلہ چاہتا ہے۔جو آپ کے یہاں آنے پر عرض خدمت کیا جائے گا جس صورت میں اب لپیٹ دیا گیا ہے وہ مفید نہیں بلکہ مضر ہے۔بہر حال آپ کا یہاں آنا از بس ضروری ہے۔خواہ تنگی کے (ساتھ ) گذران کرلیں۔آپ کی ذات کے لئے بھی مفید ہے اور دیگر مصالح کے لئے بھی۔والسلام۔خاکسار عبدالکریم * ( غیر مطبوعہ ) اس مکتوب کی تاریخ ۱۸ نومبر بروز جمعہ درج ہے جنوری ۱۸۹۱ ء میں مدرسہ کا اجراء ہوا۔۱۸۹۸ء میں ۱۸/ نومبر کو جمعہ تھا ۱۸۹۹ ء اور ۱۹۰۰ ء کے سالوں میں اس تاریخ کو جمعہ نہ تھا ۱۹۰۱ء میں نومبر کو نواب صاحب ہجرت کر کے قادیان پہنچ چکے تھے۔