اصحاب احمد (جلد 2) — Page 676
676 ہمیشہ طلب قوت کرتے رہیں۔ر جس دن کا آنا نہایت ضروری ہے اور جس گھڑی کا وارد ہو جانا نہایت یقینی ہے اس کو فراموش مت کرو اور ہر وقت ایسے رہو کہ گویا تیار ہو۔کیونکہ نہیں معلوم کہ وہ دن اور وہ گھڑی کس وقت آ جائیگی۔سو اپنے وقتوں کی محافظت کرو اور اس سے ڈرتے رہو جس کے تصرف میں سب کچھ ہے۔جو شخص قبل از بلا ڈرتا ہے اس کو امن دیا جائے گا مگر جو شخص بلا سے پہلے دنیا کی خوشیوں میں مست ہو رہا ہے وہ ہمیشہ کے دکھوں میں ڈالا جائے گا۔جو شخص اس قادر سے ڈرتا ہے وہ اس کے حکموں کی عزت کرتا ہے پس اس کو عزت دی جائے گی۔مگر جو شخص نہیں ڈرتا اس کو ذلیل کیا جائے گا۔دنیا بہت ہی تھوڑا وقت ہے۔بے وقوف ہے وہ شخص جو اس سے دل لگا وے اور نادان ہے وہ آدمی جو اس کے لئے اپنے رب کریم کو ناراض کرے۔سو ہوشیار ہو جاؤ تا غیب سے قوت پاؤ۔دعا بہت کرتے رہو اور عاجزی کو اپنی خصلت بناؤ۔جو صرف رسم اور عادت کے طور پر زبان سے دعا کی جاتی ہے یہ کچھ بھی چیز نہیں۔اس میں ہرگز زندگی کی روح نہیں۔جب دعا کرو تو بجز صلوٰۃ فریضہ کے یہ دستور رکھو کہ اپنی خلوت میں جاؤ اور اپنی ہی زبان میں نہایت عاجزی کے ساتھ جیسے ایک ادنیٰ سے ادنی بندہ ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرو کہ اے رب العالمین ! تیرے احسان کا میں شکر نہیں کر سکتا۔تو نہایت ہی رحیم وکریم ہے اور تیرے بے نہایت مجھ پر احسان ہیں۔میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جاوے۔میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل وکرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین۔اسی طرح نواب صاحب کے مدنظر حضور کا یہ ارشاد تھا: " مباحثہ قولی کی بجائے مباحثہ عملی زیادہ موثر اور مفید ہوتا ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو اپنا عمدہ نمونہ دکھانا چاہئے۔تقویٰ اختیار کرنا چاہیئے تقویٰ سے ظفر مندی قرب خدا اور رعب پیدا ہوتا ہے۔انہی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے کہ آپ کا میاب و کامران ہو کر اصحابی کا لنجوم يا يهم اقتدیتم اھتدیتم کے مطابق آسمان روحانیت پر ایک درخشندہ ستارہ بن کر چمکنے لگے۔ارشاد نبوی کے مطابق