اصحاب احمد (جلد 2) — Page 675
675 حضرت اقدس کی دعا ئیں نواب صاحب کے لئے نواب صاحب کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر گزشتہ اوراق میں شرح وبسط سے لکھا جا چکا ہے۔آپ نے عین عنفوانِ شباب میں ہیں سال کی سی چھوٹی عمر میں باوجو د ریاست و امارت کے اپنی سعی بلغ سے اپنے تئیں منہیات سے بچایا اور تقویٰ کی راہ اختیار کی۔آپ وابستگان اسلام کے ہمدرد۔رسم ورواج کے مخالف۔پردہ کے سخت حامی۔غرباء کے لئے درد مند دل رکھنے والے۔امور آخرت کے لئے ہر دم فکر مند۔قرآن مجید وحدیث شریف کے عاشق۔نماز وروزہ کے پابند۔دعا گذار۔تہجد گزار۔خدمت سلسلہ اور تبلیغ کو عین فرض یقین جاننے والے۔خدام و اہلبیت سے بہترین سلوک کرنے اور اولاد کی اعلیٰ تربیت کرنے والے غرباء پر در اور خلافت کے حامی تھے۔آپ نے ہجرت کر کے قیام قادیان سے بہترین رنگ میں استفادہ کرنے کی سعی کی۔نماز با جماعت، تہجد ، حضرت اقدس کی مجالس میں حاضری کا اہتمام کرتے اور اگر کسی قسم کی کوتاہی ہوتی تو اس پر پشیمان ہوتے اور دعا کرتے تا کہ آئندہ اللہ تعالیٰ ایسی کوتا ہی سے مجتنب رہنے کی توفیق عطا کرے۔حضور کی مجلس میں کسی وجہ سے حاضر نہ ہو سکتے تو دوسروں سے تفصیل معلوم کرتے۔مختصر یہ کہ آپ اپنی اور دوسروں کی روحانی بہتری کے لئے عمر بھر طاغوتی طاقتوں سے ایک سپہ سالار کی طرح نبرد آزما ر ہے۔آپ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کی سچی تصویر تھے۔اس سیرت صلحاء سے آپ کیونکر متصف ہوئے؟ اول تو آپ کی پاکیزہ فطرتی کے سبب نور فطرت جیسا اعلی رہبر آپ کا رفیق راہ تھا۔دوسرے آپ منہیات سے احتراز کرنے اور تقویٰ کے جادہ مستقیم پر گامزن ہونے کی سعی بلیغ فرماتے تا قولی ایمان عملی ایمان و عرفان میں مبدل ہو کر سیرت ابدالی بے بدل کے رنگ میں آپ کو مرتبہ شہود پر فائز کر دے۔درخواست بیعت کو قبول کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نصائح فرمائی تھیں ZA نواب صاحب بدل و جان اس پر عمل پیرا ہوئے۔حضور نے تحریر فرمایا تھا۔اشتہار شرائط بیعت بھیجا جاتا ہے جہاں تک وسعت وطاقت ہو اس پر پابند ہوں اور کمزوری کے دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد چاہتے رہیں۔اپنے رب کریم سے مناجات خلوت کی مداومت رکھیں اور بقیہ حاشیہ: - کرم الدین دیا گیا تھا۔اپیل کا فیصلہ جس میں حضور بری قرار دیئے گئے تھے۔جنوری ۱۹۰۵ء کو لکھا گیا تھا۔مولف