اصحاب احمد (جلد 2) — Page 8
8 درمیانی رات کو پیدا ہوئے۔آپ اپنے والد کی چوتھی بیگم نواب بیگم صاحبہ بنت سردار خاں کے بطن سے جو خاندان کی شاخ نصرت خانی سے تعلق رکھتی تھیں ) پیدا ہوئے آپ اپنی والدہ کے پہلے لڑکے اور بھائیوں میں تیسرے تھے۔دو بڑے بھائی خاں احسن علی خان صاحب اور خاں باقر علی خاں صاحب بڑی والدہ کے بطن سے تھے اور نواب صاحب سے کافی بڑے تھے۔جو پہلی اولاد ہونے کی وجہ سے خاندان کے بزرگوں اور اپنی پھوپھیوں کے لاڈلے رہے۔اس لئے باوجود والد کی خواہش کے ان کی تعلیم و تربیت اُن کے منشاء کے مطابق نہ ہوسکی اور نواب غلام محمد خاں مرحوم جن کو خاص طور پر بڑے بیٹے سے بہت لگاؤ تھا آخر کار ان کے خلاف توقع اور نا مناسب رجحان اور افتاد کی وجہ سے بہت دل شکستہ ہو گئے اور اُن سے رنجیدہ رہنے لگے تھے۔ان سے چھوٹے بھائی سرنواب ذوالفقار علی خاں صاحب ( وفات ۱۹۳۳ء) تھے جو عمر میں ان سے ساڑھے تین سال چھوٹے تھے اور ان سے چھوٹے تیسرے بھائی یوسف علی خاں تھے جن کا بیس سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔نواب صاحب سے بڑی ایک بہن فاطمہ بیگم صاحبہ مرحومہ تھیں جن کو آخر کار نعمت احمدیت نصیب ہوئی۔(ن) بچپن میں موت سے نجات ایک بار چار پانچ سال کی عمر میں ایک سواری کی ہتھنی جو بہت بدمزاج تھی بگڑ گئی اور آپ کولیکر بھاگی۔حالت خطرناک تھی مگر خدا نے فضل کیا کہ ایک تنگ کو چہ میں ایک کوٹھڑی میں گھستے گھستے وہ لوٹی اور پھر سیدھے رستے پر ہولی اور گھیر کر پکڑلی گئی۔اندر گھر میں قیامت برپاتھی۔والد سخت پریشان تھے کہ یہ صحیح سلامت واپس لائے گئے۔بہت کچھ خوشی کی گئی اور بہت صدقہ و غیر تقسیم کیا گیا۔(ن ) والدہ محترمہ کا ذکر خیر فرماتے۔والدہ سے ہم زیادہ ڈرتے تھے۔ان کے سامنے دن میں صرف دوبار سلام کو لے جایا جاتا تھا۔باقی وقت نوکروں میں یا مردانہ میں گزرتا۔والدہ بہت شفیق تھیں مگر صفائی وغیرہ کی ذرہ ذرہ بات دیکھنا اور نوکروں کو آکر تنبیہ کرنا یہ باتیں ہم پر بھی ان کا خوف زیادہ طاری رکھتی تھیں۔وہ لاڈ پیار اور بے تکلفی والد کی طرح نہ کرتی تھیں۔(ن)