اصحاب احمد (جلد 2) — Page 9
9 والد بزرگوار کی طرف سے اعلیٰ تربیت نواب صاحب سے ان کے والد بزرگوار کو بے حد محبت تھی اور ان کو بھی اپنے والد سے بہت ہی زیادہ تعلق تھا۔اب تک ان کا ذکر بہت پیار سے کرتے تھے اور اس طرح بات کرتے گویا کل کی بات ہے۔اپنے گاؤں اور مکان واقعہ سروانی کوٹ سے نواب صاحب کو بہت محبت تھی فرماتے تھے کہ اگر کوٹلہ کی کسی چیز سے مجھے دلچسپی رہ گئی ہے وہ یہ مقام ہے کیونکہ والد نے میرے سامنے اس کو آباد کیا اور تعمیر کی اور اس میں ان کی وفات ہوئی۔ریاستی معاملات میں اگر کوئی ذکر ہوتا اور کوئی ان کے والد کے خلاف بات کرتا تو جوش آجا تا تھا۔اُن کے متعلق کوئی الزامی بات سُن ہی نہ سکتے تھے۔فرماتے تھے والد کا زمانہ ان کی صورت۔ان کی باتیں مجھے اس طرح یاد ہیں کہ خود حیرت ہوتی ہے۔حالانکہ اب اس زمانہ کی اکثر باتیں بھول جاتا ہوں۔اپنے والد کو ” میاں“ کہتے تھے اور اسی نام سے ان کا ذکر بہت ہی محبت سے فرماتے تھے۔جہاں تک ان سے اور محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ مرحومہ سے باتیں سنیں ان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ نواب غلام محمد خان صاحب کا طریق تربیت نہایت ہی اعلیٰ تھا اور وہ بہت عمدہ اخلاق کے مالک تھے اور سخاوت اور حوصلہ عالی نواب محمد علی خان صاحب نے انہی سے ورثہ میں پایا تھا۔فرمایا کرتے تے کہ والد کو مجھ سے نہایت درجہ محبت تھی۔چونکہ اپنے بڑے فرزند سے بھی ان کو بہت محبت تھی اس لئے حسرت سے سرد آہ کے ساتھ ان بدعنوانیوں کا ذکر کرتے اور کہتے تھے کہ خدا کرے میرے یہی بچے اچھے نکلیں۔اور میری تمنا اولاد کے متعلق ان ہی کے ذریعہ پوری ہو جائے۔فرماتے تھے کہ باوجود بیحد محبت کے ہمارے والد کا ہم پر بہت رُعب تھا۔ان کی منشاء کے خلاف کوئی بات بچپن میں بھی ہم نہیں کر سکتے تھے۔طرح طرح کے کھلونے اور دلچسپی کی چیزیں وہ میرے لئے مہیا کرتے اور خود بھی دلچسپی لیتے اپنے سامنے کھیل کھلواتے اور خوش ہوتے۔اکثر ایسا ہوتا کہ کھلونا دیا اور میں نے چلا کر دکھایا تو کہا کہ لو! میاں نے ہمیں تماشا دکھایا ہے۔اس کا انعام دینا چاہئے۔روپے دیتے کہ اپنے نوکروں میں تقسیم کر دو۔اکثر میرے ہاتھ سے چیزیں تقسیم کرواتے کہ اس سے دادوستد کی عادت پڑتی ہے ایک دفعہ میں نے اپنے اتالیق کی غیر موجودگی میں اپنے قیمتی کپڑے نکال کر خادم لڑکوں میں تقسیم کر دیئے بلکہ اُن کو پہنا دیئے ( بہت سے خادم لڑکے ساتھ پرورش پاتے اور ساتھ کھیلتے تھے ) والد نے دیکھا تو خفا نہیں ہوئے۔بلکہ ان لڑکوں سے کہا کہ گھروں کو بھاگ جاؤ۔شیخ قاسم علی آجائیں گے اور دیکھ لیا تو سب اتر والیں گے۔تمہیں میاں نے دیئے ہیں لے جاؤ۔مگر وہ بچے اتراتے ہوئے وہیں پھرتے رہے اور شیخ صاحب نے آن کر اکثر سے چھین ہی لئے۔فرماتے تھے کہ ہم کو نوکروں کا ادب کرنا سکھلایا جاتا تھا۔اپنے کھلائیے وغیرہ کے تھپڑ کھا کر بھی ہم شکایت