اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 7 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 7

7 نواب غلام محمد خاں اپنے والد کی وفات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ان کی ولادت سے قبل ہی اقارب نے والد کی جائداد آپس میں تقسیم کر لی اور یہ خیال کیا کہ شاید لڑکی پیدا ہو۔ان کی ولادت پر بھی ساری جائیداد کی بجائے صرف سات ہزار روپے سالانہ آمد کی جاگیر واپس ملی۔لیکن کچھ تو یہ ترکہ ملا اور کچھ انہوں نے اپنی خدا داد قابلیت سے پیدا کی حتی کہ وفات پر ایک لاکھ روپیہ سالانہ آمد کی جائداد پنی اولاد کیلئے چھوڑی۔ازالہ اوہام میں مذکورہ حالات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نواب صاحب سے حاصل کر کے ذیل کے حالات ازالہ اوہام حصہ دوم میں درج فرمائے تھے۔جی فی اللہ نواب محمد علی خان صاحب رئیس خاندان ریاست مالیر کوٹلہ۔یہ نواب صاحب ایک معزز خاندان کے نامی رئیس ہیں مورث اعلیٰ نواب صاحب موصوف کے شیخ صدر جہاں ایک باخدا بزرگ تھے جو اصل باشنده جلال آباد سروانی قوم کے پٹھان تھے۔۱۴۶۹ء میں عہد سلطنت بہلول لودھی میں اپنے وطن سے اس ملک میں آئے شاہ وقت کا ان پر اس قدر اعتقاد ہو گیا کہ اپنی بیٹی کا نکاح شیخ موصوف سے کر دیا اور چند گاؤں جاگیر میں دے دیئے۔چنانچہ ایک گاؤں کی جگہ میں یہ قصبہ شیخ صاحب نے آباد کیا جس کا نام مالیر ہے۔شیخ صاحب کے پوتے بایزید خاں نامی نے مالیر کے متصل قصبہ کوٹلہ کو تقریباً ۱۵۷۳ء میں آباد کیا۔جس کے نام سے اب یہ ریاست مشہور ہے۔بایزید خاں کے پانچ بیٹوں میں سے ایک کا نام فیروز خان تھا اور فیروز خان کے بیٹے کا نام شیر محمد خاں اور شیر محمد خاں کے بیٹے کا نام جمال خاں تھا۔جمال خان کے پانچ بیٹے تھے مگر ان میں سے صرف دو بیٹے تھے جن کی نسل میں باقی رہی یعنی بہادر خان اور عطاء اللہ خان۔بہادر خان کی نسل سے یہ جوان صالح خلف رشید نواب غلام محمد خان صاحب مرحوم ہے جس کا عنوان میں ہم نے نام لکھا ہے۔☆ ولا دت نواب صاحب اور آپ کے بھائی بہن نواب محمد علی خان صاحب یکم جنوری ۱۸۷۰ء ( مطابق ۲۸ یا ۲۹ رمضان ۱۲۸۶ھ ) غالبا شنبه و یکشنبہ کی نواب صاحب کے خاندانی حالات کے ماخذ درج ذیل ہیں: (۱) ازالہ اوہام۔۔۔(۲) مکتوب نواب صاحب مورخه ۲۷ رمئی ۱۹۳۱ء۔۔۔۔بنام حضرت امیر المومنین ایده اللہ تعالی (۳) بیان مکرم میاں محمد عبد اللہ خان صاحب ( مولف)