اصحاب احمد (جلد 2) — Page 478
478 اس کے بعد فونوگراف سے مولانا عبد الکریم صاحب کے لب ولہجہ میں یہ اشعار نکلے اشعار فونوگراف سے آواز آرہی ہے یہ ڈھونڈ و خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے جب تک عمل نہیں ہے دلِ پاک وصاف سے کمتر نہیں یہ مشغلہ بت کے طواف سے باہر نہیں اگر دل مردہ غلاف سے حاصل ہی کیا ہے جنگ و جدال و خلاف سے وہ دیں ہی کیا ہے جس میں خدا سے نشاں نہ ہو تائید حق نہ ہو مدد آسماں نہ ہو مذہب بھی ایک کھیل ہے جب تک یقیں نہیں جو نور سے تہی ہے خدا سے وہ دیں نہیں دین خدا وہی ہے جو دریائے نور ہے جو اس سے دور ہے وہ خدا سے بھی دور ہے دین خدا وہی ہے جو ہے وہ خدا نما کس کام کا وہ دیں جو نہ ہووے گرہ کشا جن کا یہ دیں نہیں ہے نہیں ان میں کچھ بھی دم دنیا سے آگے ایک بھی چلتا نہیں قدم وہ لوگ جو کہ معرفت حق میں خام ہیں بت ترک کر کے پھر بھی بتوں کے غلام ہیں یہ اشعار پھر دوبارہ پڑھے گئے جس وقت یہ اشعار حضرت اقدس نے خاص اسی تقریب کے لئے چند منٹ میں لکھ کر دئے تھے جب فونوگراف سے نکل رہے تھے تو احمدی جماعت کے ایمان میں ترقی اور تازگی آتی تھی اور ان کے چہروں سے خوشی اور لذت کے آثار نمایاں تھے برخلاف اس کے جو لوگ فونوگراف سننے کی