اصحاب احمد (جلد 2) — Page 474
474 فونوگراف اور اس جیسی دیگر اشیاء اکثر لہو ولعب کے طور پر استعمال میں آتی ہیں لیکن جب غیر مسلموں نے اس بقیہ حاشیہ : -۹- مرزا عبدالکریم صاحب دوکاندار ” مرحوم بھیرہ کے باشندہ اور احمدی تھے۔حضرت والد - 1+ صاحب کی ملازمت میں کتب خانہ ان کے سپر د تھا۔پھر ریاست پونچھ میں چلے گئے تھے۔“ صوفی عبدالرحیم صاحب۔یہ صوبہ سرحد کے باشندہ تھے۔پہلے حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے مریدوں میں سے تھے پھر احمدی ہو گئے تھے۔دن بھر تلاوت قرآن مجید ان کا شغل تھا۔جو بھی ان سے ملاقات کے لئے آتا اس سے قرآن مجید پڑھواتے۔آپ تلاوت کرتے اور روتے رہتے۔بزرگ اور نیک شخص کے طور پر حضرت والد صاحب نے ان کو اپنے پاس رکھا ہوا تھا اور ان کو کچھ وظیفہ دیتے تھے۔۱۹۰۴ء کے قریب مالیر کوٹلہ میں وفات ہوئی۔ان کا ایک لڑکا ہے اور افسوس کہ وہ کئی بار ارتداد اختیار کر چکا ہے۔اس کا نام ”میاں عبدالرحمن صاحب طالب علم کے طور پر مرقوم ہے۔“ 11- حافظ اللہ دتا صاحب معمار مالیر کوٹلہ کے رہنے والے تھے۔احمدی تھے۔مالیر کوٹلہ میں فوت ہوئے۔غیر احمدیوں نے ان پر شد ائدروار کھے۔ان کا لڑکا ایک ہے۔افسوس کہ وہ احمدی نہیں۔“ ۱۲- رحمت اللہ صاحب گاڑی بان۔یہ احمدی نہ تھے۔فوت ہو چکے۔ان کے والد میاں جیوا گاڑی بان احمدی تھے۔“ ۱۳ - نبی بخش چپراسی۔” یہ احمدی نہ تھے۔نبی کے نام سے معروف تھے۔۱۹۰۱ء میں حضرت والد صاحب کے ہمراہ قادیان آئے تھے۔اس وقت کی ڈائری میں ان کا نام بھی موجود ہے۔-17 - ۱۴ غلام حسین کو چبان۔یہ احمدی نہ تھے۔فوت ہو چکے ہیں۔“ ۱۵- شیخ نواب صاحب۔یہ احمدی نہ تھے۔شیخ مراد بخش صاحب کو توال کے رشتہ دار تھے۔“ ۱۶- سید سعادت علی صاحب جمعدار در بان۔یہ احمدی نہ تھے۔حضرت والد صاحب گھوڑا گاڑی میں والدہ صاحبہ کو بٹھا کر مقفل کر کے چابی جس جمعدار کے سپر د کرتے تھے وہ یہی جمعدار تھے۔“ ۱۷- میاں مولا بخش صاحب درزی - احمدی نہ تھے۔درزی کے طور پر ملازم تھے۔“ ان احباب کے اسماء فہرستہائے مذکورہ چندہ میں موجود ہیں۔یہ چندہ مرزا خدا بخش صاحب کے ذریعہ وصول ہوا تھا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ مالیر کوٹلہ کے چندہ کی فراہمی میں نواب صاحب کا بہت سا دخل تھا۔چنانچہ حضرت اقدس نے جنگ ٹرانسوال کے زخمیوں کے لئے فراہمی چندہ کا اعلان فرمایا تھا اور ہدایت دی تھی کہ ہر جماعت اس چندہ کی مکمل فہرست اور چندہ مرزا خدا بخش صاحب کو قادیان بھیج دے تا کہ رپورٹ