اصحاب احمد (جلد 2) — Page 473
473 امام کی آواز میں خاص برکت و تاثیر ہوتی ہے۔تفصیل مندرجہ ذیل کے پڑھنے سے احباب کرام پر آشکار ہوگا کہ حضور کے قلب اطہر میں دنیا کی ہدایت کا کس قدر جوش بھرا ہوا تھا اور حضور ہدایت دینے کا ہر جائز طریق اختیار کرنا چاہتے تھے۔معلوم نہیں کس کو کس ڈھب سے ہدایت نصیب ہو جائے۔یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ بقیہ حاشیہ: - کے لئے چندہ دینے کا علم ہوتا ہے ان میں سے بعض کے احمدی ہونے یا نہ ہونے کا جو علم مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب سے ہوا درج ذیل کیا جاتا ہے اس وجہ سے کہ غالب امر یہ ہے کہ ان کے متعلق اتنی معلومات بھی بعد میں حاصل نہ ہو سکیں گی۔ا مولوی محمد اکرم صاحب اتالیق۔یہ احمدی تھے اور ہمارے اتالیق تھے۔حضور اپنے مکتوب مورخہ ۲۹ جنوری ۱۹۰۰ء میں مولوی صاحب موصوف کے ہاتھ نواب صاحب کے مکتوب کے پہنچنے کا ذکر فرماتے ہیں ( مکتوب نمبر ۳۳) مولوی صاحب کے قادیان میں ہونے کا ذکر الحکم بابت ۰۱-۸-۳۱ صفحہ ۱۶ کالم ۲ -1 میں آتا ہے۔۲۔ماموں میردا دار یہ ان کا عرف تھا۔ان کا نام امام بخش تھا۔بہت پکے احمدی تھے اور حضرت والد صاحب کے ملازم تھے۔غالباً دوران خلافت اولی میں قادیان میں فوت ہوئے۔“۔ماسٹر مولا بخش صاحب۔یہ زندہ ہیں۔احمدی نہیں۔کمبوہ قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔مدرستہ الاسلام مالیر کوٹلہ میں انگریزی کے مدرس تھے۔پھر ریاست میں ملازم ہوئے اور افسر مال رہے۔ریٹائر ہو چکے ہیں۔“ سید سردار علی صاحب ملازم نہ تھے۔شہر مالیر کوٹلہ کے رہنے والے ہیں اور زندہ ہیں افسوس کہ ارتداد اختیار کر چکے ہیں۔“ ۵- سید نعمت علی صاحب۔سید سردار علی صاحب مذکور کے رشتہ دار ہیں۔انہوں نے قادیان جا کر دوکان بھی کی تھی پھر چلے آئے۔بعد کا حال معلوم نہیں۔“ فتح خاں صاحب نمبر دار۔یہ احمدی نہ تھے۔“ -۷ شیخ مراد بخش صاحب کو توال۔یہ احمدی نہ تھے۔فوت ہو چکے ہیں۔“ - مرزا جمیل بیگ صاحب افسر تو پخانہ۔یہ احمدی تھے اور ریاست میں ملازم تھے۔ان کی وجہ سے مالیر کوٹلہ میں بہت احمدی ہوئے۔ان کے بیٹے مرزا عبد اللہ بیگ صاحب بھی فوت ہو چکے ہیں۔ان کے پوتے پاکستان میں ہیں اور احمدی ہیں۔