اصحاب احمد (جلد 2) — Page 454
454 -۵- حضرت اقدس کی خدمت میں دو صد روپیہ بھیجا اسی طرح نواب صاحب نے مبلغ دو صد روپیہ حضور کی خدمت بابرکت میں ارسال کیا اس بارہ میں حضور ۲۱ جولائی ۱۸۹۸ء کوتحریر فرماتے ہیں کہ عنایت نامہ معہ مبلغ دوصد روپیہ مجھ کوملا۔اللہ تعالی آپ کو ہر ایک مرض اور غم سے نجات بخشے۔آمین ثم آمین۔خط میں سو روپیہ لکھا ہوا تھا اور حامل خط نے دوسور و پیہ دیا اس کا کچھ سبب معلوم نہ ہوا۔- حضور کی خدمت میں تین صدر و پریہ بھیجا ۳۲۵ ایک بار نواب صاحب نے تین صد روپیہ حضور کی خدمت میں ارسال کیا چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں : بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالٰی۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ مع دوسرے خط کے جو آپ کے گھر کے لوگوں کی طرف سے تھا۔جس میں صحت کی نسبت لکھا ہوا تھا پہنچا بعد پڑھنے کے دعا کی گئی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں ہر ایک بلا سے محفوظ رکھے۔آمین ثم آمین۔ہم دست مرزا خدا بخش صاحب مبلغ تین سوروپے کے تین نوٹ بھی پہنچ گئے۔جزاکم اللہ خیرا۔ان کے لڑکے کا حال ابھی قابل اطمینان نہیں ہے۔گو پہلی حالت سے کچھ تخفیف ہے۔مگر اعتبار کے لائق نہیں۔باقی سب خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ے۔حضور کی طرف سے تعریف سفر نصیبین کے لئے اعانت ٣٢٦ سلسلہ کو جس قدر ضرورت مالی اعانت کی تھی اس کا اندازہ حضرت اقدس کے اشتہار من انصاری الی الله مورخه ۴ را کتوبر ۱۸۹۹ء سے ہوتا ہے۔جس میں حضور نے لنگر خانہ ، تالیفات اور تردید تثلیث کی خاطر بعض معلومات کے حاصل کرنے کے لئے تین دوستوں کو نصیبین کے سفر پر بھیجنے کے لئے اعانت کی پرزور تحریک کی ہے۔حضور فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حکم سے اور سب سے بڑھ کر یہ امر ضروری ہے کہ قادیان میں مہمانوں کی آمد و رفت بکثرت جاری رہے۔اس سے پہلے دواڑ ہائی صد روپیہ کا آنا ماہوار آتا تھا۔اب قحط کی وجہ سے شاید پانصد روپیہ تک نوبت پہنچی اور فرماتے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ اس کے لئے ہمارے پاس کچھ بھی سامان نہیں۔۔میرے نزدیک یہ انتظام ہمارے