اصحاب احمد (جلد 2) — Page 455
455 اس نام سلسلہ کی بنیاد ہے اور دوسری تمام باتیں اس کے بعد ہیں کیونکہ فاقہ اٹھانے والے معارف اور حقائق بھی سن نہیں سکتے۔سوسب سے اول اس انتظام کے لئے ہماری جماعت کو متوجہ ہونا چاہئے۔اور یہ خیال نہ کریں کہ اس راہ میں روپیہ خرچ کرنے سے ہمارا کچھ نقصان ہے کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے جس کے لئے وہ خرچ کریں گے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریا کاری کے موقعوں میں تو صد ہا روپیہ خرچ کریں اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خست اور بخل کو نہ چھوڑے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کئی مرتبہ صحابہ پر چندے لگائے جن میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے۔سومر دانہ ہمت سے امداد کے لئے بلا توقف قدم اٹھانا چاہئے ہر ایک اپنی مقدرت کے موافق اس لنگر خانہ کے لئے مدد کرے۔میں چاہتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو ایک ایسا انتظام ہو کہ ہم لنگر خانہ کے سردرد سے فارغ ہو کر اپنے کام میں با فراغت لگے رہیں اور ہمارے اوقات میں کچھ حرج نہ ہو۔جو ہمیں مدد دیتے ہیں۔آخر وہ خدا کی مدددیکھیں گے۔“ نیز فرماتے ہیں: دوسری شاخ اخراجات کی جس کے لئے ہر وقت میری جان گدازش میں ہے سلسلہ تالیفات ہے۔اگر یہ سلسلہ سرمایہ کے نہ ہونے سے بند ہو جائے تو ہزار ہا حقائق اور معارف پوشیدہ رہیں گے۔اس کا مجھے کس قدر غم ہے؟ اس سے آسمان بھر سکتا ہے۔اسی میں میرا سرور اور اسی میں میرے دل کی ٹھنڈک ہے کہ جو کچھ علوم اور معارف سے میرے دل میں ڈالا گیا ہے۔میں خدا کے بندوں کے دلوں میں ڈالوں دور رہنے والے کیا جانتے ہیں؟ مگر جو ہمیشہ آتے جاتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ کیونکہ میں دن رات تالیفات میں مستغرق ہوں اور کس قدر میں اپنے وقت اور جان کے آرام کو اس راہ میں فدا کر رہا ہوں۔میں ہر دم اس خدمت میں لگا ہوا ہوں لیکن اگر کتابوں کے چھپنے کا سامان نہ ہو اور عملہ مطبع کے خرچ کا روپیہ موجود نہ ہو تو میں کیا کروں؟ جس طرح ایک عزیز بیٹا کسی کا مر جاتا ہے اور اس کو سخت غم ہوتا ہے۔اسی طرح مجھے کسی ایسی اپنی کتاب کے نہ چھپنے سے غم دامن گیر ہوتا ہے۔“ نیز نصرت اور جانفشانی میں سرگرم احباب کے اسماء ذکر کرتے ہوئے حضور تحریر فرماتے ہیں: یہ بھی قابل ذکر ہے کہ جی فی اللہ سردار نواب محمد علی خاں صاحب بھی محبت اور اخلاص میں بہت ترقی کر گئے ہیں اور فراست صحیحہ شہادت دیتی ہے کہ وہ بہت جلد قابل رشک اخلاص اور محبت کے منار تک پہنچیں گے۔اور وہ ہمیشہ حتی الوسع مالی امداد میں بھی کام آتے رہے ہیں اور امید ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ خدا کی راہ میں