اصحاب احمد (جلد 2) — Page 383
383 پر بھی آمنا کہا۔آپ نے فرمایا مجھے نبوت کا درجہ اتباع محمد رسول اللہ اور فیضان محمد رسول اللہ سے ملا ہے۔میں غلام ہوں محمد رسول اللہ آقا ہیں ہم نے کہا آمنا۔آپ نے فرمایا میرا خیال تھا کہ جیسا کہ عام خیال ہے کہ اب نبی نہیں آ سکتا۔مگر مجھے متواتر وحی سے مجبور ہونا پڑا اس لئے میں کہتا ہوں کہ میں نبی ہوں اور امت محمدیہ میں پہلے مجددین پر نبی کا لفظ نہیں بولا گیا۔یہ شرف محض مجھے عطا فر مایا گیا ہے۔ہم نے اس پر بھی آمنا کہا۔آپ نے فرمایا میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی ہوں ہم نے اس پر بھی آمنا کہا۔خلاصہ یہ کہ حضرت نے جو کچھ بھی دعویٰ کیا ہم نے آمنا کہا آپ نے اپنے آپ کو محمد کہا ابراہیم کہا موسیٰ " کہا۔عیسی (مسیح موعود ) کہا مہدی کہا اور جری اللہ فی حلل الانبیاء کہا کرشن فرمایا۔ہم ان سب دعوؤں پر ایمان لائے۔وجہ یہ کہ ہم نے حضرت کو راستباز مانا ، پھر جو آپ نے فرمایا اس پر ایمان لائے۔باقی آپ ایک مجددیت کا ذکر کرتے ہیں۔اسی زمانہ میں جب ازالہ اوہام چھتا تھا۔ہمارا عقیدہ تھا اورہم تیار تھے کہ اگر حضرت دعوئی فرماتے کہ ناسخ شریعت محمدیہ ہوں۔تو ہم یہ بھی ماننے کو تیار تھے۔مجھے خود حضرت مولانا مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ خلیفہ امسیح اول نے فرمایا تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ اگر حضرت مرزا صاحب نے یہ دعویٰ کر دیا کہ میں ناسخ شریعت محمد یہ ہوں تو آپ کیا کریں گے۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو میں سمجھوں گا کہ مسیح بنی اسرائیل کا آخری نبی تھا اور محمد رسول اللہ بنی اسمعیل کا اور یہ ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اس سے آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ ہم کس حد تک تیار تھے۔اس لئے یہ کہنا کہ ہم نے مجدد ہونے پر بیعت کی یہ غلط ہے۔ہم نے مرزا غلام احمد کی بیعت نہ کی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی بیعت کی تھی اور اللہ تعالیٰ کی بیعت کا واسطہ تھا۔چنانچہ بیعت کے الفاظ اس کے شاہد ہیں کہ آج میں احمد کہ ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے تو بہ کرتا ہوں۔یہ نہیں کہ میں احمد کی بیعت کرتا ہوں ، یہ بیعت در اصل خدا کی بیعت اور خدا سے عہد تھا اور ہے۔اور پھر اب تک یہ طرز رہی کہ جب بھی کسی شخص نے بیعت کی تمام مجلس بھی حضرت کے ہاتھ پر ہاتھ اسی طرح رکھ دیتی تھی کہ جو قریب ہوتے تھے وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیتے تھے دوسرے ہاتھ رکھنے والوں کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر تمام الفاظ بیعت بولتے جاتے۔اسی طرح گویا ہر دفعہ نئی بیعت کرتے۔پس اگر آپ کے کہنے کے ہمو جب ہم نے مجددیت پر بیعت کی تو وقتا فوقتا جو بھی حضرت دعوئی فرماتے رہے اس دعوے کی بھی بیعت کرتے رہے۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے قرآن کریم کا تدبر سے مطالعہ نہیں کیا۔اور غور سے حدیث پر نظر نہیں ڈالی اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کو غور اور نظر تعمق سے پڑھا۔ہم تو حضرت کے تمام دعاوی پر ایمان لائے اور حضرت کے درجہ کو نہ بڑھاتے ہیں اور نہ گھٹاتے ہیں۔ہم ٹکڑوں کو نہیں لے بیٹھتے کیونکہ