اصحاب احمد (جلد 2) — Page 384
384 افَتُومِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ پر ہمارا عمل نہیں ہم نے مجموعہ جو کچھ بھی حضرت نے فرمایا اس پر آمنا کہا اور یہی ہمارا ایمان ہے۔معلوم نہیں کہ آپ کو نبوت پر کیوں جھجک ہے حضرت رسول کریم کی اتباع میں نبوت کا سلسلہ جاری رہنے سے حضرت کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت ثابت ہوتی ہے اور ایسانہ ہونے سے ہتک۔باقی اس بارہ میں اتنا لکھا جا چکا ہے کہ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالے آپ کو راہ راست کی ہدایت دے۔راقم محمد علی خاں حضرت نواب صاحب کا مقام اور خلافت ثانیہ سے عقیدت جماعت میں حضرت نواب صاحب کا جو مقام تھا وہ مختلف امور سے ظاہر ہوتا ہے یہاں پر خلافت کے تعلق میں اس امر کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ۱۹۱۸ء میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ سخت علیل ہوئے حضور نے اس موقعہ پر ایک وصیت تحریر فرمائی تھی جو کہ صدرانجمن کے پاس محفوظ ہے لیکن کسی جگہ طبع نہیں ہوئی اس لئے یہاں درج نہیں کی جاسکی اس کے متعلق مکرم غلام فرید صاحب ایم اے فرماتے ہیں: حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ نے ۱۹۱۸ء میں جو وصیت کی تھی اس میں خلیفہ کے انتخاب کرنے والی کمیٹی کے حضرت نواب صاحب صدر مقرر کئے گئے تھے۔پہلے ہم مفصل تحریر کر چکے ہیں کہ حضرت نواب صاحب کو حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ سے کس درجہ محبت تھی اور خلافت اولی کے قیام میں آپ نے کس قدر سعی بلیغ کی۔اسی طرح خلافت ثانیہ کے قیام کی خاطر آپ کی مساعی جمیلہ کا ذکر بھی ہو چکا ہے جس سے آپ کی عقیدت کا ہمیں علم ہو جاتا ہے۔اس تعلق میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ صاحبہ آپ کی نسبت تحریر فرماتی ہیں: چاء رخصتانہ وغیرہ پر ایک دو جگہ کا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ ) سے بظاہر اختلاف لوگوں کو نظر آیا مگر وہ ذاتی رائے کا اختلاف تھاور نہ انکے خیالات کی تو میں گواہ ہوں ان میں نہایت اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور ایمان تھا جو ہر ایک کو نصیب نہیں وہ کہتے تھے جب تک بحیثیت خلیفہ یا مامور وہ کوئی حکم نہ دیں یا ایک امر کو قطعی واضح نہ کر دیں ہر شخص ان معمولی باتوں پر اپنے گھر میں عمل کرنے اور کروانے کا اپنی تحقیق کے مطابق مجاز ہے۔ہاں اگر حکم دیں گے تو انشاء اللہ سب سے پہلے شرح صدر سے ماننے والا میں ہوں گا۔اب مصلح موعود کے دعوے کے بعد تو مرض الموت میں خود مجھے انہوں نے کہا