اصحاب احمد (جلد 2) — Page 335
335 خصوصیت سے بلانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس سے مندرجہ ذیل نتائج پیدا ہوں۔۔۔۔ایک یہ کہ میاں صاحب ان کے خیال میں خلافت کے متمنی ہیں دوسرے وہ ان کے خیال میں خواہش مند ہیں کہ کب خدانخواستہ حضور کا سایہ ہے اور کب یہ خلیفہ ہوں۔پھر یہ کہ ہم مدعی خلافت نہیں۔اب جائے غور ہے کہ اس کے اظہار کی کیا ضرورت تھی۔اور پھر حضور کی موجودگی میں یہ امور ان کو کس طرح شایان تھے۔پھر جب ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب انہی ایام میں علالت حضور میں میرے پاس آئے اور کہا کہ میں نے لاہور جانے کی اجازت لیتے وقت کہا کہ حضور کو لاہور سے کسی چیز کی ضرورت ہو تو فرمایا جاوے تو حضور نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ خدا مجھ سے راضی ہو جاوے اور تم اپنا عمل قرآن کے بموجب کرد وغیرہ وغیرہ تو ڈاکٹر صاحب نے پوچھا کہ کیا یہی حضور کی وصیت ہے تو حضور نے فرمایا کہ ہاں یہی میری وصیت ہے۔چنانچہ مجھ سے کہا کہ حضرت نے فرمایا ہے کہ حاضر غائب کو کہہ دے چنانچہ میں آپ کو پہنچا تا ہوں اور مجھ سے انہوں نے یہ صاف کہا اس کے بغیر حضرت کی کوئی وصیت یا تحریر نہیں اور آج یہ معاملہ صاف ہو گیا۔اور ان کا اس وقت رنگ خلافت کے متعلق وصیت کا تھا۔اور چنانچہ حضور نے وہ مضمون پڑھا ہوگا جو شائع ہوا۔گو میں نے بدر میں بجائے وصیت کے نصیحت پڑھا۔اب ان واقعات سے حضور غور فرمائیں کہ یہ لوگ خلافت کے مسئلہ کو چھیڑتے ہیں یا ہم ؟ اور تعجب یہ کہ الزام ہم پر۔یہ وہی حالت ہوئی کہ چہ آفت است دزدے کہ بلف چراغ دارد۔قصور ان کا اپنا اور الزام ہم پر۔اور پھر حضور نے کبھی اس معاملہ کو ہمارے ذریعہ چھڑتا دیکھا سوائے اس کے کہ ان لوگوں کے ذریعہ چھڑے؟ پھر جب یہ تجربہ شدہ امر ہے پھر حضور ہم پر گلہ کیوں فرماتے ہیں؟ اس سے زیادہ بدبختی ہماری کیا ہو کہ وہ لوگ بھی ہم کو ذلیل کریں اور حضور کے بھی معتوب ہوں؟ حضور اللہ ہماری داد ( کو ) پہنچیں۔اس سے زیادہ کیا سامعہ خراشی کروں کہ راقم محمد علی خاں لاہوری دوستوں کو ارشاد یہ کاپی پتھر پر جم چکی تھی اور کسی وجہ سے ۲ کی صبح کوچھنے کوتھی کہ ۲ کو ایک بجے کے قریب مجھے معلوم ہوا کہ حضرت خلیفہ اسیح نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے اس سوال پر کہ آپ کو کوئی خواہش ہے کچھ ارشاد فرمایا ہے۔میں جس وقت حضرت کے پاس پہنچا ہوں تو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مندرجہ ذیل مضمون بدر کے لئے لکھوا رہے تھے۔میں نے اس کی اشاعت کو مقدم سمجھ کر آج اخبار کو روک کر اس مضمون کو پتھر پر سابقہ مضمون کو کاٹ کر لکھوا دیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے حضرت صاحب کے جن الفاظ کو قلمبند کیا وہ آگے آتے ہیں۔یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ سلسلہ کلام جیسا کہ احباب موجودہ نے بتایا جن میں خصوصیت