اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 336 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 336

336 اسی طرح نواب صاحب نے تحریر کیا : بسم الله الرحمن الرحيم سیدی حضرت خلیفہ مسیح علیہ السلام مر معظم سلمکم اللہ تعالی۔السلام علیکم کل شام حضرت صاحبزادہ بقیہ حاشیہ : - سے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کے علاوہ شیخ تیمور صاحب ایم۔اے مولوی فضل دین ، میاں غلام حسین وغیرہ بہت سے دوست جمع تھے ایسے طور پر شروع ہوا جس سے حضرت صاحب کی صاف گوئی اور للہیت کی یہی عجیب مثال اس وقت پیش آئی ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ میں،خواجہ صاحب اور شاہ صاحب آج جاویں گے حضرت صاحب نے فرمایا کہ خواجہ صاحب نے جو ایک مضمون لکھا ہے اس کے خلاف کچھ کہنا چاہتا ہوں اس کے خلاف میرے دل میں کئی دن سے مضامین آرہے ہیں۔اس وقت طاقت ہوتی تو لکھوا دیا (نقل بمقابق اصل۔ناقل ) افاقہ ہونے پر کسی کو لکھا دوں گا یا سنا دوں گا۔بہر حال حضرت نے اپنے ان کلمات کو ڈاکٹر صاحب کے استفسار پر مناسب موقعہ دیکھ کر جو فرمایا ہے۔امید ہے قوم اس پر عمل کرے گی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے۔آمین۔حضرت کی یہ نصیحت ساعات عسر میں انشاء اللہ کام آئے گی۔اس پر مفصل پھر لکھوں گا۔وباللہ التوفیق‘ (ایڈیٹر ) خدا کا فضل ہے کہ دورہ ماشرہ (ری سپلس ) جو کہ دوبارہ چیرہ دینے کے بعد چہرہ پر ہو گیا تھا اب قریباً سب اتر گیا ہے اور بخار بھی اتر گیا ہے طاقت پہلے کی نسبت بہت اچھی ہے۔غذا بھی خوب کھا لیتے ہیں ہوش وحواس بالکل درست ہیں اور ہر طرح سے بیماری رو بصحت ہے۔آج قریباً ساڑھے بارہ بجے دن کے جب میں رخصت ہونے لگا تو میں نے پوچھا کہ حضور کا دل کس چیز کو چاہتا ہے آپ نے بجواب فرمایا کہ میرا دل یہی چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جاوے۔پھر اس کے بعد فرمایا کہ میرا دل یہی چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جاوے پھر فرمایا کہ میرا اللہ راضی ہو۔پھر یہ فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم فرمانبردار رہو۔اختلاف نہ کر یو۔جھگڑا نہ کرنا۔پھر فرمایا میں دنیا سے بہت سیر ہو چکا ہوں۔کوئی دنیا کی خواہش نہیں۔مرجاؤں تو میرا مولا مجھے سے راضی ہو۔فرمایا کہ سب کو سنا دو۔پھر فرمایا میں دنیا کی پرواہ نہیں رکھتا۔میں نے بہت کمایا۔بہت کھایا بہت خرچ کیا۔دنیا کی کوئی حرص باقی نہیں۔پھر فرمایا میں نے بہت کمایا بہت کھایا۔بہت لیا بہت دیا۔کوئی خواہش باقی نہیں۔کبھی کبھی صحت میں اس لئے چاہتا ہوں کہ گھبراہٹ میں ایمان نہ جاتا رہے۔پھر بہت دفعہ دردانگیز لہجہ میں فرمایا کہ ( نوٹ از ایڈیٹر ) اس موقعہ پر حضرت کے دل میں ایسا جوش تھا کہ آپ بے اختیا ر روپڑے کہ اللہ تو راضی ہو جاوے۔پھر کئی بار فرمایا اللهم ارض عنی اللهم ارض عنِّى - اللَّهُمَّ ارض عنِّی۔اس کے بعد میں نے عرض کی کہ میں حضور کے الفاظ سنادیتا ہوں۔جب دوبارہ یہاں تک سنا چکا تو