اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 334 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 334

334 طرح پہلے تھے ایک دل بھائی بھائی ہو جائیں۔چنانچہ یہ امر قرار پایا کہ سب ایک جگہ اس معاملہ میں ابھی گفتگو کریں۔مگر میں نے کہا کہ انجمن کو اس سے علیحدہ رکھنا چاہئے۔انجمن سے باہر ہم آپس میں گفتگو کریں اور اختلافات کی بابت تبادلہ خیالات کر کے پہلے ان کو کھوئیں۔اور پھر عملاً بھی کھودیں۔اور سب کی گفتگو میں شاید ملال بڑھ جائے اس لئے پہلے میں اور خواجہ صاحب گفتگو کر لیں۔اگر ہم دونوں کسی نتیجہ پر پہنچ سکے تو پھر سب مل کر فیصلہ کریں۔چنانچہ خواجہ صاحب پرسوں میرے پاس رات کو آٹھ بجے آئے اور ان کو واقعات بیان کر کے کہا گیا کہ سوائے خلافت کے دراصل کوئی بڑا معاملہ اختلاف کا موجب نظر نہیں آتا تو پھر با وجود فیصلہ کے اب آپ کو ہم سے اس بارہ میں کیا اختلاف ہے تو انہوں نے ایک طرف تو یہ کہا اس معاملہ میں گفتگو کرنے سے حضرت خلیفہ اسیح نے روکا ہے۔پھر ان سے کہا گیا کہ خیر یہ نہ ہی عملا اگر ہو کہ جن قواعد میں حضرت اقدس مسیح موعود کا نام تھا وہاں خلیفتہ المسیح علیہ السلام کا نام ہو کیونکہ اس طرح موجودہ حالات میں انتظام انجمن میں فساد بڑھ رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مامور تھے۔اور ان کا حکم ہر ایک ( پر ) واجب التعمیل تھا جو خلیفہ کی حالت میں نہیں ہو سکتا۔اور پھر یہ بھی کہا کہ خلیفہ موجودہ کی اطاعت ہم کریں گے آئندہ دیکھا جائے گا مگر قواعد میں ایسا کرنے سے ہم معذور ہیں اور پھر یہ بھی کہا کہ سوچیں گے اور قواعد میں تبدیلی نہ ہونے دیں گے۔خلاصہ یہ کہ انہوں نے کوئی اختلاف نہ بیان کیا جس کی وجہ سے ہم قابل تعزیر ہیں۔یہ ایک پرائیویٹ گفتگو تھی اور محض شرمنانے کے لئے تا کہ یہ بات جاتی رہے جو روز ایک دوسرے کو لڑاتی ہے اور محض اپنی عزت بچانے کے لئے تھا اور اخوت کو بڑھانے کے لئے کیونکہ خلافت کے جھگڑے سے پہلے ان کا ہمارے ساتھ یہ سلوک نہ تھا پھر اس کے بعد کیوں ایسا کرنے لگے ہیں؟ یہ واقعات ہیں جو بے کم و کاست حضور کی خدمت میں عرض کر دیئے ہیں اب آخر میں چند اور واقعات بھی عرض کرتا ہوں۔اول جب حضور سخت خطرناک علیل تھے تو خواجہ صاحب نے بذریعہ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی پر حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کو اور میر ناصر نواب صاحب کو بلا کر کہا کہ ہم آپ سے ایک بات کہتے ہیں وہ کسی دوسرے پر ظاہر نہ ہو۔وہ یہ کہ ہم حضور کے خادم ہیں۔اور میرا اور مولوی محمد علی صاحب کا کوئی خیال نہیں کہ ہم خلیفہ بنیں اور اگر خدانخواستہ مولوی صاحب کی دگرگوں حالت ہوتو آپ اتنا کریں کہ جب تک ہم نہ آئیں کوئی فیصلہ نہ ہو اور ہمارے آنے کا انتظار کیا جائے۔اور ہم کو فوراً اطلاع دیں۔اس پر میاں صاحب نے فرمایا کہ اس وقت ایسی باتیں میں سننا بھی نہیں چاہتا۔پس میاں صاحب کو