اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 332 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 332

332۔ہوں آپ ہی ایمان سے کہ دیں کہ میں غلطی پر ہوں تو اس پر خواجہ صاحب نے باوجود اس امانت کے سپرد کرنے کے باوجود یہ کہنے کے کہ جو کچھ تم کہتے ہو ٹھیک ہے اور اسی طرح ہونا چاہئے۔پھر میرے خلاف ووٹ دیا اور فیصلہ مخالف کیا۔مجھ کو افسوس نہ ہوتا اگر کثرت رائے کی وجہ سے فیصلہ میرے خلاف ہوتا۔مگر ایسا شخص جس کو میں نے ایما نا فیصلہ چاہا تھا وہ اگر حق میری طرف جانتا تھا تو ووٹ تو میری طرف دیتا مگر باوجود حق میری جانب تسلیم کرنے کے پھر میرے خلاف رائے دی۔اب حضور خود انصاف فرما ئیں کہ کیا یہ دیانت کی کارروائی ہے؟ پس میں اس حالت کو دیکھ کر حیران ہوا کہ وہ کون سا میں نے جرم کیا ہے کہ یہ سب میرے خلاف یک زبان ہو کر تل پڑے۔آخر ان سے یہ کہا گیا کہ انجمن میں دھڑے بندی نہ چاہئے۔ہاں اگر میں نے کوئی غلطی کی ہے تو مجھ سے اس کا جواب مانگا جاوے۔قواعد کی رو سے بتلایا جاوے کہ قواعد کی خلاف ورزی کی وجہ سے میں قابل تعزیر ہوں۔اس کا جواب نہیں۔پس جواب یہی کہ قواعد ہم نے بنائے ہیں اب ہم اس قاعدے کو بدل دیتے ہیں۔مگر حیرت کہ اس کی وجہ کیا کہ محض ایک آدمی کی تجویز کی وجہ سے سب کچھ جائز ونا جائز وسیلے ڈھونڈے گئے مگر اس کی وجہ کا پتہ مشکل سے لگتا تھا۔چنانچہ شنبہ کو یعنی پرسوں انجمن میں نہ میری بلکہ میاں صاحب کی بھی یہی گت بنائی گئی اور معمولی سے معمولی بات پر ہم سے جھگڑتے رہے۔گویا انہوں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں وہ محض بدنیتی سے انجمن کے کام میں روڑا اٹکانے کے لئے کرتے ہیں۔میں کل واقعات کہاں تک لکھوں اور بلا اظہار واقعات حضور پر اصلیت بھی نہ کھل سکے گی۔مگر حضور ا تصنیع اوقات سامی کا ڈر ہے۔ہمارے ساتھ بعینہ اس طرح وہ کا رروائی کرتے ہیں جس طرح نقل ہے کہ مہا راجہ کو سودائی بنانے کے لئے بعض ملازموں نے اتفاق کیا اور گورنمنٹ میں رپورٹ کی جس کی وجہ سے کمشنر صاحب اور ڈاکٹر آئے۔جس وقت کمشنر اور ڈاکٹر عین دروازہ پر پہنچے راجہ ان کے آنے سے بے خبر تھا ایک چپراسی اس جرگہ کا راجہ کے پاس آیا اور اس کے کان میں نہایت گندی گالی نکال کر کہا کہ اب تو سیدھا ہو کر بیٹھنا اب کوئی سودائی والی بات نہ کرنا۔کمشنر اور ڈاکٹر آتے ہیں۔اب راجہ کو سخت غصہ آیا اور وہ اس کو پیٹنے لگا۔اتنے میں کمشنر اور ڈاکٹر ( آگئے ) اور یہ چلانے لگا کہ حضور ہم سخت مصیبت میں ہیں۔ہمارے ساتھ روز یہ گت ہوتی ہے۔باوجود اس کے ہم نے حضور تک نہ پہنچایا بلکہ ہم سوچتے تھے کہ آیا حضور کے یہ واقعات پیش کریں کہ نہیں کیونکہ حضور ایسا خیال نہ فرمائیں کہ انہوں نے بزدلی اور بے حوصلگی سے کام لیا۔چنانچہ کل بجٹ کے پیش ہونے پر کل ایک معاملہ میں ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب نے صاف لفظوں میں کہا کہ اگر آپ لوگوں کی نقل مطابق اصل۔(مؤلف)