اصحاب احمد (جلد 2) — Page 333
333 نیت صاف ہے اور یہ معاملہ آپ نیک نیتی سے پیش کرتے ہیں تو میں تائید کروں گا۔چنانچہ خواجہ صاحب نے بھی صاف یہ کہا کہ ہماری اس میں مصلحت ہے کہ یہ معاملہ اسی طرح نہ ( ہو ) اور شیخ رحمت اللہ نے بھی تائید کی۔مگر جب ہم نے کہا کہ چونکہ ہماری نیت پر حملہ کیا گیا ہے اور ہماری نیت کی بابت پہلے فیصلہ ہو جائے پھر ہم شریک ہو سکتے ہیں ورنہ ہم شریک جلسہ نہیں ہوتے اس کے بعد مولوی محمد علی افسوس ظاہر کرنے لگے کہ یہ غلطی ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایسا کہا مگر ڈاکٹر صاحب نے اپنی بات کو واپس نہیں لیا اور نہ دوسرے مویدین نے۔اب حضور خود انصاف فرمائیں کہ اس میں ہمارا قصور ہے یا دوسروں کا۔وہ ایک جگہ ثابت کر دیں کہ ہم چار پانچ نے بھی کبھی یا دو نے بھی ایسا اتفاق کیا ہے جس طرح وہ ہمارے ذلیل کرنے کے لئے اتفاق کر کے فیصلہ کرتے ہیں۔اور کل صاف انہوں نے ہماری نیت پر حملہ کر دیا گو پہلے اشار تا حملے کرتے رہے۔اب حضور خود انصاف فرما ئیں کہ ان کو ہم سے کیا عنا دو اختلاف ہے اور ہمارا ان سے کیا اختلاف ہے اور کیا وجہ محض وہی لوگ ہمارے خلاف اتفاق رکھتے ہیں جو معاملہ خلافت میں خلاف تھے۔اس سے صاف اور بین معاملہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہم محض اس جرم کے مجرم ہیں کہ ہم نے دربار خلافت کی تائید کی تھی اور اس کا بدلہ اس طرح نکالا جاتا ہے۔اس کے سوا حضور خود غور اور انصاف فرما ئیں کہ کیا وجہ کہ محض ان لوگوں نے ہمارے خلاف ایکا کیا ہے جو خلافت کے بھی خلاف ( ہیں ) دوسروں نے اس طرح اتفاق کے ساتھ انکار نہیں کیا اور کل صاف طور سے ایکے کی وجہ انہی میں سے ایک نے ظاہر کر دی کہ تم صفائی نیت سے معاملات پیش نہیں کرتے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کو شبہ ہے یا یقین ہے کہ ہم محض ان کے خلاف ہیں اور ان کی عداوت کی وجہ سے یہ امور پیش کرتے ہیں حالانکہ اب تک جو معاملے پیش ہوئے ہیں وہ محض اختیارات عہدہ داران یا اور قواعد کی تشریح یا ان کی پابندی کے متعلق ہوئے ہیں۔کوئی تعلق ان کا خلافت یا انجمن سے نہ تھا۔پھر انہوں نے محض ارادتاً ہمارے خلاف کمر ہمت باندھی اور اگر حضور چاہیں تو اس کا ثبوت خود ایجنڈوں سے مل سکتا ہے۔پس یہ ظاہر اور بین ہے کہ محض اس وجہ سے وہ ہمارے خلاف ہیں کہ ہم نے ان کی تائید خلافت کے معاملہ میں نہیں کی ورنہ وہ کون سا جرم ہے جس کی وجہ سے وہ ہمارے خلاف بالاتفاق تل پڑے۔پس حضور خود انصاف فرما ئیں کہ عملاً خلافت کے مسئلہ کو وہ خود چھیڑتے ہیں یا ہم۔زبانی تو وہ کہتے ہیں کہ ہم خادم ہیں مگر عملاً پھر کیوں محض اس جرم کی وجہ سے ہم کو ذلیل کرتے ہیں۔جب ان کے اس رنگ کو ہم نے دیکھا اور صاف ہم کو نظر آ گیا کہ محض خلافت کی وجہ سے یہ ہم سے کاوش رکھتے ہیں۔اس لئے ان سے کہا گیا کہ جب ہمارے دلی خیالات کا اثر انجمن میں پڑ کر روز تو تو میں میں ہوتی ہے جو ٹھیک نہیں۔پس پرائیویٹ طور سے ان اختلافات کی بابت با ہم تصفیہ کیا جائے تا کہ ہم پھر اسی طرح جس