اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 331 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 331

331 جب حضور نے بار بار ایسے خیالات کے لوگوں کی بیعت لی اور سرزنش کر کے روکا اور قوم کو اپنا پورا ہم خیال نہ پایا تو بظاہر اتنے پر آگئے کہ واقع میں اتفاق قومی کے لئے ایک خلیفہ کی ضرورت ہے اور موجودہ خلیفہ کی اطاعت ہم بہر نوع کرتے ہیں۔مگر عمل یہ رہا کہ حضور کو دسمبر تک میر مجلس ہی رکھا۔جس کی وجہ سے حکیم فضل دین صاحب کے مکان کا جھگڑا پیدا ہوا اور حضور نے اپنی شفقت سے مجھ کو کراچی میں اس کی اطلاع دی تھی۔اور اب دسمبر میں حضور کی جگہ محض حضور کے حکم سے دوسرا میر مجلس ہوا اور پھر اس تغیر سے لازمی تھا کہ قواعد پر اثر پڑتا اور جہاں حضرت مسیح موعود کا قواعد میں ذکر ہے وہاں خلیفتہ اسیح کا ذکر ہوتا مگر وہاں جوں کا توں یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ہے یا انجمن کو خود مختار رکھا اور وہ نہیں چاہتے کہ خلیفہ سے وہ سلوک کریں جو انجمن حضرت مسیح موعود سے کرتی تھی اور وہ اپنے دائرے کو بڑھارہے ہیں صرف موقع کا انتظار ہے۔دوسرے خیال کے لوگ وہ ہیں کہ جو بلالحاظ شخصیت اور بلالحاظ خلیفه موجوده یا آئندہ محض منصب خلافت کے ماتحت انجمن کو سمجھتے ہیں اورخلیفہ کو تمام قوم پر حکمران تسلیم کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ جو قواعد انجمن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے متعلق تھے۔وہ قو اعداب نائب رسول خلیفہ اسیح کے متعلق بھی ہوں۔پس ان دو خیال کا اب تک ہونا حضور پر ہویدا ہے کہ ان دو خیالوں کے لوگ موجود ہیں۔اب جب حضور کے حکم سے دسمبر سے میں جانے لگا تو انہی دنوں میں انہی بعض اصحاب جو اول الذکر خیال کے اصحاب ہیں کی خلاف مرضی انتخاب ممبر اور انتخاب میر مجلس حضور کے حکم سے ہوا تھا اور اس سے یہ چڑے ہوئے تھے۔چنانچہ میری موجودگی انجمن میں ان کو سخت شاق گزری اور بات بات پر کج بحثی کر کے جو کچھ انہوں نے مجھ کو ذلیل کیا وہ اگر ان سے حلف دے کر پوچھا جاوے تو شاید وہ بھی نہ چھپا سکیں۔چنانچہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے نہایت سخت الفاظ میرے متعلق استعمال کئے وہ اور بڑھ جاتے اگر میاں صاحب نہ روکتے۔اس طرح بسم اللہ ہی غلط ہوگئی اور اس دن سے آج تک برابر جلسہ انجمن میں وہ سب یک زبان ہوکر وہ سلوک جو مجھ سے کرتے رہے ہیں جو ایک ذلیل سے ذلیل انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔جو باتیں محض پابندی مقواعد اور انتظام انجمن کے لئے کی گئیں اور جن کے خلاف ان کے پاس کوئی دلیل نہ تھی اور محض اس لئے کہ میں نے کیوں سیکرٹری یا بعض مہران انجمن کے عملدرآمد کے خلاف قواعد کی پابندی کی یک زبان بلا کسی استثنائی موقعہ کے گو یا قسم کھائی تھی کہ جو کچھ یہ کہے بس اس کے خلاف کرنا ہے۔پس جہاں ان کے ایک ممبر ہم خیال کے منہ سے ایک بات نکلی اور سب نے یک زبان تائید کی۔اس امر کے لئے کہ میرے خلاف کرنا ہے خواہ کچھ ہو فوری طور سے قواعد توڑے گئے اور نئے قواعد فوراً تجویز کئے گئے۔اور ان کا اثر اگلی پچھلی سب کا رروائی پر ڈالا گیا۔۔مجھ کو بالکل بیوقوف بنایا گیا کہ میں قواعد کے مفہوم کو نہیں سمجھتا۔آخر میں نے ایک موقعہ پر خواجہ صاحب کو ہی حکم بنایا کہ جو کچھ میں کہتا