اصحاب احمد (جلد 2) — Page 245
245 فروری ۱۹۰۸ء ۱۷/ پیر کا دن الحمد للہ کہ آج وہ دن ہے جس روز میرا نکاح حضرت کی بڑی صاحبزادی مبارکہ بیگم صاحبہ سے بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں بالعوض ۵۶۰۰۰ روپیہ ہو گیا۔یہ وہ فضل اور احسان اللہ تعالے کا ہے کہ اگر میں اپنی پیشانی کو شکر کے سجدے کرتے کرتے گھسا دوں تو بھی خدا وند کے شکر سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔میرے جیسا نابکار اور اس کے ساتھ یہ نوریہ خداوند تعالے کا خاص رحم اور فضل ہے۔اے خدا۔اے میرے پیارے مولا جب تو نے اپنے مرسل کا مجھ کو داماد بنایا ہے اور اس کی لخت جگر سے میرا تعلق کیا ہے تو مجھ کوبھی نور بنا دے تا کہ اس کے قابل ہوسکوں۔اقارب کے نام خطوط میں سے بطور نمونہ دو درج ذیل کئے جاتے ہیں جو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی خان محمد ذوالفقار علی خاں صاحب کو تحریر کئے فرماتے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم الـ دارالامان قادیان (۱۶ / فروری ۱۹۰۸ء) برادر عزیز مسلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ۔آپ نے چند روز ہوئے ایک تار بھیجا تھا کہ ہماری اپیل منظور ہوگئی اور احکامات بذریعہ کمشنر صاحب پہنچ گئے۔اس سے اس قدر خوشی حاصل ہوئی کہ کوئی حد نہیں اور سجدات شکر اللہ کے آگے کئے گئے۔مگر یہ ایسا خدا کا فضل ہوا ہے کہ اگر سجدے کرتے کرتے ہمارے ماتھے گھس جائیں تو بھی تھوڑے ہیں اور خاص کر آپ مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ جس قدر سعی اور تکلیف آپ نے اس امر میں اٹھائی وہ بہت ہی بڑی تھی۔خداوند نے آپ کی سعی مشکور کی اور تکلیف کا معاوضہ بہت اچھا دیا۔ہم کو آپ کو یہ فتح اور بالخصوص آپ کو مبارک ہو۔آپ کو بہت ہی خداوند کے سامنے جھک جانا چاہئے کیونکہ یہ خاص فضل اللہ تعالیٰ کا ہوا اور نہ فریق مخالف کے مقابلہ میں ہماری کیا حقیقت تھی۔یہ محض اللہ تعالے کے دست قدرت نے کام کیا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ اب زیادہ نازک وقت ہے پس ہم کو بہت سنبھلنا چاہئے اور خدا وند تعالیٰ کا بہت بہت شکر ادا کرنا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَئِن شَكَرْتُمُ لَا زِيدَنَّكُمُ اگر تم قدر کرو تو میں تم کو اور بھی زیادہ دوں گا۔مفصل پھر لکھوں گا۔کیا اچھا ہو میں مجمل و مفصل سن لوں اور اس طرح آپ کے حظ میں بھی شامل ہو جاؤں۔آپ کے پتہ کے معلوم نہ ہونے سے اس وقت التواء جواب ہوا۔ایک اور امر کی آپ کو اطلاح دیتا ہوں جو میرے لئے نہایت خوشی کا موجب ہے وہ یہ ہے کہ کل بتاریخ ۷ارفروری ۱۹۰۸ء کو میرا عقد سید نا مولانا امامنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی لڑکی سے قرار پایا ہے